مافیا ڈان مختار انصاری کو باندہ جیل کے بیرک نمبر۔ 16 میں رکھا گیا

https://www.urdu.indianarrative.com/Mafia_Mukhtar.jpg

مافیا ڈان مختار انصاری کو باندہ جیل کے بیرک نمبر۔ 16 میں رکھا گیا

لکھنؤ، 07 اپریل (انڈیا نیرٹیو)

پنجاب کی روپڑ جیل میں قید مافیا ڈان مختار انصاری کو ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد اترپردیش لاکر باندہ جیل کے بیرک نمبر۔16 میں قید کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مختار کو بیرک نمبر۔15 میں رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ وہ پہلے بھی اس بیرک میں رہ چکا ہے، لیکن جیل انتظامیہ نے اچانک اس بیرک کی جگہ تبدیل کردی ہے۔ 

جیل میں مختار کی سیکورٹی کو اتنا سخت کردیا گیا ہے کہ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے۔ خود ڈی جی جیل آنند کمار اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈی جی نے بتایا کہ جیل انتظامیہ نے مختار انصاری کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں۔ ان کو بیرک نمبر۔16 میں رکھا گیا ہے اور 24 گھنٹے پولیس کی نگرانی میں ہے۔ پوری جیل سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہے۔ جیل ہیڈ کوارٹر لکھنؤ کے کمانڈ سنٹر روم سے اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعہ مکمل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ وہ خود بھی اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

باندہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ پی کے ترپاٹھی نے بتایا کہ مختار انصاری کی صحت سے متعلق تمام جانچ کی جا چکی ہیں اور اس کی رپورٹ حکومت کو ارسال کردی گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ مختار صحت مند ہیں۔ مختار کو فی الحال بیرک نمبر ۔16 میں رکھا گیا ہے۔ اس کے آس پاس کی بیرکوں کو خالی رکھا گیا ہے۔ جیل میں مزید دو ڈپٹی جیلروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ 

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ باہر اضافی پی اے سی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختار کی جیل میں نگرانی اور سیکورٹی انتظامات کے لیے ایک ڈرون کیمرہ ، پانچ باڈی وانر کیمرے اور 30 اضافی سیکورٹی اہلکار لگائے گئے ہیں۔ مختار کے آس پاس جانے والے ہر شخص کو اپنے اور مختار انصاری کے مابین ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کے لیے باڈی وانر کیمرے سے آراستہ کیا جائے گا۔ جیل کی نگرانی کے لیےلکھنؤ سے ایک ڈرون کیمرا بھیجا گیا ہے۔

 ایم پی ایم ایل اے خصوصی عدالت نے مختار انصاری سمیت تمام ملزمان کو 21 سال پرانے کیس میں 12 اپریل کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے انہیں طلب کیا ہے۔ اس سے قبل ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت نے طلب کرنے کا حکم دیا تھا لیکن مختار انصاری پیش نہیں ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ 21 سال قبل مختار انصاری اور اس کے ساتھی عالم ، یوسف چشتی ، لالجی یادو اور کالو پنڈت پر لکھنؤ جیل کے ملازمین کو دھمکانے اور حملہ کرنے کا الزام ہے۔