لو جہاد اور غیرقانونی تبدیلی مذہب کے قوانین پر سماعت 2 ہفتوں کے لیےملتوی

https://www.urdu.indianarrative.com/SC.jpg

لو جہاد اور غیرقانونی تبدیلی مذہب کے قوانین پر سماعت 2 ہفتوں کے لیےملتوی

لو جہاد اور غیرقانونی تبدیلی مذہب کے قوانین پر سماعت 2 ہفتوں کے لیےملتوی

نئی دہلی ، 17 فروری (انڈیا نیرٹیو)

سپریم کورٹ نے لو جہاد اور غیرقانونی طور پر تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لیے مختلف ریاستوں میں بنائے گئے قوانین پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے۔ عدالت نے اس سے قبل یوپی اور اتراکھنڈ سے جواب طلب کیا تھا ، آج ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے آج جمعیة علمائے ہند کو بھی اپنا کیس پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

6 جنوری کو عدالت نے یوپی اور اتراکھنڈ کی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے قانون کو روکنے سے انکار کردیا۔ درخواست گزار نے قانون پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سماعت کے دوران ، سپریم کورٹ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ آپ ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟

 سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستیں الہ آباد ہائی کورٹ اور اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ اس کی استدعا ٹھیک نہیں ہے۔

 درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس قانون کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا ، لہذا وکیل نے قانون پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ روزانہ خبریں آرہی ہیں کہ لوگوں کو شادی سے زبر دستی اٹھایا جارہا ہے۔

جن وکلا نے عرضی دائر کی ہے ان میں وشال ٹھاکرے ، ابھیے سنگھ یادو اور پرانویش شامل ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یوپی اور اتراکھنڈ میں لوجہاد کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین آئین کی بنیادی روح کی خلاف ورزی ہیں۔

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین ملک کے ہر شہری کو بنیادی حقوق دیتا ہے۔ یوپی اور اتراکھنڈ میں بنائے گئے یہ قوانین خصوصی شادی ایکٹ کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہ قانون ان لوگوں میں خوف پیدا کرے گا جو لوجہاد میں شامل نہیں ہیں لیکن انہیں اس میں ملوث کیا جائے گا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قوانین سماج دشمن عناصر کا آلہ کار بنیں گے ، جس کے ذریعے وہ لوگوں کو جھوٹے طریقے سے پھنسائیں گے۔ اگر اس قانون کو نافذ کیا گیا تو یہ ناانصافی ہوگی اور معاشرے میں انتشار کا امکان ہے۔ درخواست میں دونوں ریاستوں میں نافذ قانون کو کالعدم قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔