ہندوستان کی قدآور خاتون پدم شری فاطمہ زکریا

https://www.urdu.indianarrative.com/Fatma_Zakaria.jpg

اس خبر نے بہت غمگین کردیا کہ پدم شری فاطمہ رفیق زکریا اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ وہ مولانا آزاد کالج کی سرپرست تھیں

 ہندوستان کی قدآور خاتون پدم شری فاطمہ زکریا

                      از: ڈاکٹر قاضی نوید           
  صدر شعبہ اردو
                            مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
اس خبر نے بہت غمگین کردیا کہ پدم شری فاطمہ رفیق زکریا اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ وہ مولانا آزاد کالج کی سرپرست تھیں۔ انھوں نے تمام اداروں کو ایک کیمپس کی شکل دی اور اس کیمپس کا نام ڈاکٹررفیق زکریا کیمپس رکھا۔ نیز اورنگ آباد کالج فارویمن کالج کو بھی ڈاکٹررفیق زکریا کے نام سے موسوم کیا۔ میڈم فاطمہ زکریا نے اپنی تمام عمر ڈاکٹر رفیق زکریا کا کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دیا۔ ان کے مزاج کو اپنے اعلیٰ تدبر سے سنبھالا۔ وہ خود بھی ایک اعلیٰ نظریہئ حیات رکھتی تھیں۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے ڈاکٹررفیق زکریا سینٹر فار ہائر لرننگ اینڈ اڈوانس ریسرچ قائم کیا تاکہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی اعلیٰ تعلیم سے سرفراز ہوں۔وہ اس سینٹر کو ڈیمڈ یونیورسٹی بنانا چاہتی تھیں۔
  ڈاکٹررفیق زکریا کے انتقال کے بعد میڈم فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشنل ٹرسٹ کی چیرمین اور مولانا آزاد ایجوکیشنل سوسائٹی کی صدر مقرر ہوئیں۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل منجمنٹ کی نائب صدر بھی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ مہاراشٹر کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، ممبئی کی بھی صدارت پر فائز تھیں۔ آل انڈیا خلافت ہاؤس جو کہ کالج ایجوکیشن میں اپنا ایک انفرادی مقام رکھتا ہے اس کی بھی صدر تھیں۔ وہ ممبئی یونیورسٹی کے سینٹ کی ممبر بھی رہیں۔
میڈیم فاطمہ رفیق زکریا کثیرالجہت شخصیت تھیں۔ وہ ایک صحافی، قومی خدمت، ماہر تعلیم اور ایک اعلیٰ پایہ کی مدیر بھی تھیں۔ ۸۵۹۱ء میں انھوں نے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جہاں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو تربیت دی جاتی تھی اور انھیں مفت طعام کا اہتمام تھا۔ان کی سماجی خدمات کے عوض ۳۸۹۱ء میں انھیں سروجنی نائیڈو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۰۷۹۱ء میں انھوں نے ٹائمزآف انڈیا کے لئے کام کرنا شروع کیا اور سینئراسسٹنٹ ایڈیٹر کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ اس دوران انھوں نے بڑی بڑی شخصیتوں کے انٹرویوز لئے جن میں سابق وزیراعظم اندراگاندھی، مارگریٹ تھیچر (سابق برٹش وزیراعظم) وغیرہ شامل ہیں۔وہ تاج میگزین کی بھی مدیر تھیں۔انگریزی زبان پر ان کو غیر معمولی عبور تھا لیکن اردو زبان سے بڑا شغف تھا انھوں نے اردو ادب کا بھی بغائر مطالعہ کیا تھا۔وہ فیض احمد فیض کی شاعری کو پسند کرتی تھیں۔جب بھی نجی کام کے لیے قلم اٹھاتی تو اردو میں ہی تحریر کرتیں۔مولانا آزاد کالج میں منعقد ہونے والے اردو سیمیناروں میں بڑے شوق سے شرکت کرتیں اور اردو داں شخصیات کی ضیافت کا بخوشی اہتمام کرواتیں۔  
  ۶۰۰۲ء میں حکومت ہند نے انھیں پدم شری جیسے اہم ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ یہ بھی ایک فخر کی بات ہے کہ ان کے فرزند فرید زکریا بھی پدم ویبھوشن سے نوازے گئے۔ یہ فاطمہ زکریا کی تعلیم و تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے فرزندان کا شمار دنیا کے دانشوروں اور بارسوخ
 افراد میں ہوتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ فاطمہ زکریا کو غریق رحمت کرے۔ آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے