صدر جمہوریہ ہند کی گجرات مرکزی یونیورسٹی کے تیسرے جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت

https://www.urdu.indianarrative.com/Gujarat_Central_University.jpeg

President of India graces the 3rd convocation of the Central University of Gujarat

 صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ طلباء کو جدید عالمی برادری کے اہل شہری بنانے کی کوشش کریں۔وہ آج گاندھی نگر میں گجرات مرکزی یونیورسٹی کے تیسرے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کررہے تھے۔ گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیو ورت ، مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’اور گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ جناب نتن بھائی پٹیل اس موقع پر یونیورسٹی کی دیگر معززین کے ساتھ موجود تھے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ اپنے ملک کو ایک ‘نالج سُپر پاور ’بنانے کے مقصد سے بھارتی اقدار پر مبنی جدید نالج –سائنس کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے فرائض کے تئیں طلباء میں بیداری پیدا کرنا بھی نئے تعلیمی نظام کا ایک اہم مقصد ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے کو ، طلباء کو جدید عالمی برادری کے اہل شہری بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ذریعے عوامی مفاد اور اخلاقیات کی اہمیت پر خصوصی زور دیئے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدار پر خصوصی زور دے کر ہی ہم اپنے تعلیمی اداروں اور مغربی تصورات پر مبنی غیر ملکی تعلیمی اداروں کے مابین فرق کرسکیں گے۔

طلباء سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کی تعمیر ہماری عالمی فکر کے قلب  میں ہے۔ خود کفیل بننے کےلئے مقامی وسائل ، تجربات اور علوم  کا استعمال کیا جانا چاہئے۔طلباء  مقامی وسائل کا استعمال کرکے تحقیق و اختراعات کے ذریعے مقامی ترقیات کو مضبوط بناکر صحیح معنوں میں اپنی تعلیم کو مفید بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ذاتی منفعت کے علاوہ ہماری تعلیم سے ہمارے سماج اور ملک کی ترقی کو فیض پہنچنا چاہئے۔ترقی کے سفر میں نسبتاً پیچھے رہ گئے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کرکے وہ ایک بہتر سماج کی تشکیل کی سمت میں اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے مسرت کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا کہ گجرات مرکزی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں تقریباً 55 فیصد لڑکیاں ہیں اور آج کے جلسہ تقسیم اسناد میں 21 میں سے 13 تمغے لڑکیوں نے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس یونیورسٹی کی ایک عظیم حصولیابی ہے۔اس سے ہمارے معاشرے میں تبدیلی اور نئے بھارت کی تصویر کی ایک جھلک سامنے آتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ تقریباً 30 ریاستوں کے طلباء گجرات مرکزی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 85 فیصد طلباء دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے یونیورسٹی کیمپس ایک چھوٹا بھارت ہے، جو ہمارے قومی اتحاد کو مضبوط بنارہا ہے۔ انہوں  نے یونیورسٹی میں زیر تعلیم دوسری ریاستوں کے طلباء سے درخواست کی کہ وہ گجرات کے لوگوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے  اپنے اندر خود انحصاری ، صنعت کاری اور اپنا روزگار آپ کے کلچر کو جاں گزیں کریں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ایک ویژن ڈاکیومنٹ ہے، جو تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسیٹیاں نہ صرف تعلیمی ادارے ہیں، بلکہ وہ قوم کی تعمیر کی تجربہ گاہیں بھی ہیں۔ صنعت اور اکادمی کے مابین ہم آہنگی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیق و اختراعات کے ذریعے دونوں کے درمیان کی خلیج کو پُر کیا جائے گا۔جلسہ تقسیم اسناد میں ڈگریاں حاصل کرنے والے سبھی طلباء کو وزیر موصوف نے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ جن طلباء نے آج گریجویشن کیا ہے، انہیں سردار پٹیل کے تصورات کی پیروی کرنی چاہئے اور سماج اور ملک کے تئیں تعاون دینا چاہئے ۔

جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر گریجویشن کرنے والے طلباء کے مابین  مجموعی طورپر 244 ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ اِ ن میں سے 73 طلباء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری، 26 کو ایم فل کی ڈگری،121 کو پوسٹ گریجویشن کی ڈگری اور 24 کو انڈر گریجویشن کی ڈگری تفویض کی گئی۔انڈر گریجویٹ اور  پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے کےلئے طلباء کو مجموعی طورپر 21سی یو جی میڈل دیئے گئے ہیں۔ خاص طورپر 6 طلباء ، مس نکیتا گوئل (ایم اے، انگلش)، جناب پرجنادپتا پانڈا(ایم ایس سی، لائف سائنس)، مس اسمتا نندی(ایم ایس سی، کیمیکل سائنسز)، جناب سومیہ دیپ بورا(ایم ایس سی، نینو ٹیکنالوجی)، مس میتھوما نرزری(ایم اے، اکنومکس)اور جناب وجے آنند مِنج(ماسٹر آف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس)نے اپنا سی یو جی میڈل براہ راست صدرجمہوریہ ہند سے حاصل کیا۔راول پراچی اُمیش کمار(ایم اے، معاشیات)نے بھی ایم اے، معاشیات کے آخری سیمسٹر کے امتحان میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے کےلئے صدر جمہوریہ ہند سے محترمہ وِدیا دیوی اگروال میڈل حاصل کیا۔صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ طلباء کو جدید عالمی برادری کے اہل شہری بنانے کی کوشش کریں۔وہ آج گاندھی نگر میں گجرات مرکزی یونیورسٹی کے تیسرے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کررہے تھے۔ گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیو ورت ، مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’اور گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ جناب نتن بھائی پٹیل اس موقع پر یونیورسٹی کی دیگر معززین کے ساتھ موجود تھے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ اپنے ملک کو ایک ‘نالج سُپر پاور ’بنانے کے مقصد سے بھارتی اقدار پر مبنی جدید نالج –سائنس کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے فرائض کے تئیں طلباء میں بیداری پیدا کرنا بھی نئے تعلیمی نظام کا ایک اہم مقصد ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے کو ، طلباء کو جدید عالمی برادری کے اہل شہری بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ذریعے عوامی مفاد اور اخلاقیات کی اہمیت پر خصوصی زور دیئے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدار پر خصوصی زور دے کر ہی ہم اپنے تعلیمی اداروں اور مغربی تصورات پر مبنی غیر ملکی تعلیمی اداروں کے مابین فرق کرسکیں گے۔

طلباء سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کی تعمیر ہماری عالمی فکر کے قلب  میں ہے۔ خود کفیل بننے کےلئے مقامی وسائل ، تجربات اور علوم  کا استعمال کیا جانا چاہئے۔طلباء  مقامی وسائل کا استعمال کرکے تحقیق و اختراعات کے ذریعے مقامی ترقیات کو مضبوط بناکر صحیح معنوں میں اپنی تعلیم کو مفید بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ذاتی منفعت کے علاوہ ہماری تعلیم سے ہمارے سماج اور ملک کی ترقی کو فیض پہنچنا چاہئے۔ترقی کے سفر میں نسبتاً پیچھے رہ گئے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کرکے وہ ایک بہتر سماج کی تشکیل کی سمت میں اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے مسرت کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا کہ گجرات مرکزی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں تقریباً 55 فیصد لڑکیاں ہیں اور آج کے جلسہ تقسیم اسناد میں 21 میں سے 13 تمغے لڑکیوں نے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس یونیورسٹی کی ایک عظیم حصولیابی ہے۔اس سے ہمارے معاشرے میں تبدیلی اور نئے بھارت کی تصویر کی ایک جھلک سامنے آتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ تقریباً 30 ریاستوں کے طلباء گجرات مرکزی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 85 فیصد طلباء دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے یونیورسٹی کیمپس ایک چھوٹا بھارت ہے، جو ہمارے قومی اتحاد کو مضبوط بنارہا ہے۔ انہوں  نے یونیورسٹی میں زیر تعلیم دوسری ریاستوں کے طلباء سے درخواست کی کہ وہ گجرات کے لوگوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے  اپنے اندر خود انحصاری ، صنعت کاری اور اپنا روزگار آپ کے کلچر کو جاں گزیں کریں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ایک ویژن ڈاکیومنٹ ہے، جو تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسیٹیاں نہ صرف تعلیمی ادارے ہیں، بلکہ وہ قوم کی تعمیر کی تجربہ گاہیں بھی ہیں۔ صنعت اور اکادمی کے مابین ہم آہنگی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیق و اختراعات کے ذریعے دونوں کے درمیان کی خلیج کو پُر کیا جائے گا۔جلسہ تقسیم اسناد میں ڈگریاں حاصل کرنے والے سبھی طلباء کو وزیر موصوف نے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ جن طلباء نے آج گریجویشن کیا ہے، انہیں سردار پٹیل کے تصورات کی پیروی کرنی چاہئے اور سماج اور ملک کے تئیں تعاون دینا چاہئے ۔

جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر گریجویشن کرنے والے طلباء کے مابین  مجموعی طورپر 244 ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ اِ ن میں سے 73 طلباء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری، 26 کو ایم فل کی ڈگری،121 کو پوسٹ گریجویشن کی ڈگری اور 24 کو انڈر گریجویشن کی ڈگری تفویض کی گئی۔انڈر گریجویٹ اور  پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے کےلئے طلباء کو مجموعی طورپر 21سی یو جی میڈل دیئے گئے ہیں۔ خاص طورپر 6 طلباء ، مس نکیتا گوئل (ایم اے، انگلش)، جناب پرجنادپتا پانڈا(ایم ایس سی، لائف سائنس)، مس اسمتا نندی(ایم ایس سی، کیمیکل سائنسز)، جناب سومیہ دیپ بورا(ایم ایس سی، نینو ٹیکنالوجی)، مس میتھوما نرزری(ایم اے، اکنومکس)اور جناب وجے آنند مِنج(ماسٹر آف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس)نے اپنا سی یو جی میڈل براہ راست صدرجمہوریہ ہند سے حاصل کیا۔راول پراچی اُمیش کمار(ایم اے، معاشیات)نے بھی ایم اے، معاشیات کے آخری سیمسٹر کے امتحان میں اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے کےلئے صدر جمہوریہ ہند سے محترمہ وِدیا دیوی اگروال میڈل حاصل کیا۔