غالب کی شاعری قدیم ہندستانی نظریہ عدم تشدد کی عکاس :ارون ڈنگ

https://www.urdu.indianarrative.com/Ghalib_Seminar.jpg

دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام، شام غزل نے سامعین کو کیا محظوظ

غالب کی شاعری قدیم ہندستانی نظریہ عدم تشدد کی عکاس :ارون ڈنگ

دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام، شام غزل نے سامعین کو کیا محظوظ 


آگرہ ،14فروری(انڈیا نیرٹیو)

فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے زیراہتمام سینٹ جانس کالج میں ’غالب اور اکبر آباد ‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار کا آج اختتام ہوا۔دوسرے روز کی مقالہ خوانی کے سیشن کا افتتاح علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے پروفیسر صغیر افراہیم نے چراغ روشن کر کے کیا۔ پہلے سیشن کی صدارت جے این یو شعبہ اردو کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اور دوسرے کی پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے کی اور نظامت کے فرائض لینگویج یونیورسٹی لکھنوکے ڈاکٹر ثوبان سعیدنے انجام دئے۔

سیمینار کے کنوینر پروفیسرسید شفیق احمد اشرفی نے سبھی مہمانوں کا گلدستے اور یادگاری نشان پیش کر کے خیر مقدم کیا۔سینٹ جانس کالج کے پرنسپل پروفیسر ایس پی سنگھ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔مقالہ خوانی کا سلسلہ کالج کے طلبہ و دیگر دانش گاہوں کے ریسرچ اسکالرس سے شروع ہو کر اساتذہ کے فکر انگیز مقالوں پر ختم ہوا ۔صدورنے سبھی مقالوں کا اجمالی جائزہ لیا اور طلبہ کو مفید بھی مشورے دئے۔

صدارتی خطبہ میں پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ غالب اردو اور فارسی کے شاعر ہیں لیکن ان کی ایک خصوصیت ایسی ہے جس میں کسی بھی زبان کا ادب ان آس پاس بھی نظر آتا وہ ہے غالب کا استفہامیہ طرز ،اسلوب اور لہجہ ۔وہ سوال قائم کرتے ہیں اور توجہات کو بیدار اور تیز بھی کرتے ۔استفہامیہ لہجہ کو برتنے کا سلیقہ جو غالب میں پایا جاتا ہے وہ غالب کی ایسی ایجاد ہے جو ان ہی سے پیدا ہوئی اور ان ہی پر ختم معلوم ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ غالب کی عظمت کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ان کلام فقط تفہیم کے ابواب ہی وا نہیں کرتابلکہ ادراک کو بھی نئی کائناتوں سے متعارف کرتا ہے۔پروفیسر صغیر افراہیم نے اکبر آباد اور غالب کے رشتوں پر مفصل اور مدلل گفتگو کی۔

انھوں نے اکبر آباد کے آب و گِل اور دہلی کے مٹی اور پانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مقاموں میں جمنا کا پانی مشترک ہے اور دریا کے ساتھ مٹی کا سفر کرنا ایک فطری عمل ہے۔اسی لئے جو یہاں سے دلی گیا وہ دہلوی ہو گیا اور جو دہلی سے یہاں آیا وہ اکبر آبادی ہو گیا،اس کی سامنے کی مثال نظیر اکبر آبادی اور غالب دہلوی ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر احمد محفوظ نے اپنے مقالے میں کلام غالب اور اس کے شارحین کا محاکمہ کیا اور کہا کہ غالب اردو کے پہلے شاعر ہیں جن کا کلام شرح طلب سمجھا گیا ۔خود غالب سے ان کے اشعار کے معنی و مطالب دریافت کئے گئے اور خطوط غالب میں متعدد اشعار کی شرحیں موجود ہیں۔

شارحین غالب کی فہرست خود غالب سے شروع ہوتی ہے اور آج بھی اس کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔بیسویں صدی کی آخری ،معتبر اور جزوی شرح ،شمس الرحمان فاروقی کی’ تفہیم غالب‘ ہے۔فاروقی نے اس میں ما قبل کے شارحین سے ذرا ہٹ کر شعر کی گرہیں کھولی ہیں ۔

انھوں نے کلام کی تفہیم میں اس شعریات کو ترجیح دی ہے جس میں وہ تخلیق ہوا ہے۔انھوں نے غالب کو کلاسیکی شعریات کے ساتھ مغربی نظریات کی روشنی میں بھی دیکھنے سے اجتناب نہیں کیا ہے۔ڈاکٹرپروفیسر شفیق اشرفی نے کہا کہ غالب بنیادی طور پر غزل کا مزاج رکھتے ہیں اور یہی مزاج جب قصیدے کی روح کے قالب میں ڈھلتا ہے تو گھن گرج کو نغمگی اور شکوہ کو نرم لہجہ میں تبدیل کرتا ہے اور نثر میں ضم ہوتا ہے تو مراسلت کا رنگ ہی بدل دیتا ہے۔

 دوسرے سیشن کے صدارتی کلمات میں پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے سبھی مقالوں کے اہم نکات کا تذکرہ کیا۔پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی نثر ان کی شاعری سے کسی قیمت کم نہیں ہے۔جس طرح انھوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے اسی طرح نثر بھی دونوں زبانوں میں لکھی ہے لیکن دونوں جگہ مقبولیت کا سہرا اردو زبان کے سر ہے۔

اردو نثر نے خطوط غالب سے سادگی کا پیرہن اوڑھا اور مقفگی اور مسجعگی نے کینچل اتار ا حالاں کہ غالب کے مکتوبات میں بھی مقفہ جملے ملتے ہیں لیکن ایک تو یہ ان کی نثر نگاری حاوی عنصر نہیں دوسرے جہاں مقفہ جملے ہیں وہ اتنی روانی میں ہیں کہ مقفہ ہونے کا احساس بھی پیدا نہیں کرتے ہیں۔

ڈاکٹر امتیاز نے کہا کہ غالب اردو تاریخ کا وہ نقطہ ہیں جہاں کلاسیکیت آخری قدم رکھتی ہے اور جدیدشاعری پہلا قدم آگے بڑھاتی ہے۔ڈاکٹرپروفیسر شفیق اشرفی نے کہا کہ غالب بنیادی طور پر غزل کا مزاج رکھتے ہیں اور یہی مزاج جب قصیدے کی روح کے قالب میں ڈھلتا ہے تو گھن گرج کو نغمگی اور شکوہ کو نرم لہجہ میں تبدیل کرتا ہے اور نثر میں ضم ہوتا ہے تو مراسلت کا رنگ ہی بدل دیتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم بیگم نے ’ غالب کی شوخیاں خطوط کے آئینے میں‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پڑھا۔ڈاکٹر نسیم نے بڑی دقت نظر سے خطوط سے ان اجزا کو جمع کیا جس میں تبسم کی تہ دار زیریں لہریں موجزن ہیں۔پرستار غالب ارون ڈنگ نے کہا کہ غالب ہندستان کی مٹی میں پیدا ہی نہیں ہوئے بلکہ یہاں کی قدیم تہذیب میں رچے بسے ہوئے ہیں ، لڑتے اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں کے پس منظر میں انھوں نے کہا کہ ہمارے عدم تشدد کے نظریہ کی جھلک غالب کے کلام میں صا نظر آتی ہے ۔

ڈاکٹر وصی اعظم انصاری نے دستنبو کے خصوصی حوالے سے مقالہ پڑھا اور مغربی اور مشرقی ثقافتوں کے ٹکراؤکے ذیل میں غالب کی شخصیت کی دو لختگی کا ذکر کیا ۔سیمینار میں ڈاکٹر اطہر، سبط حسن نقوی، عذرا،دانشہ،ارشد رضوی ،صمد،یونس آتش،سلیم بلرام پوری،حمزہ،محمد نوید،صدف اشتیاق،سعدیہ سلیم شمس ،شِوَم کمار سنگھ ، محمد حارث نے بھی مقالے پڑھے۔اس موقع پر پروفیسر شفیق اشرفی کی دو کتابوں لندن کی ایک رات تنقید و تخلیق،یاد گار افسانے اور پروفیسر احمد محفوظ کی مقبول کتاب بیان میر کے تیسرے ایڈیشن کا اجراءپروفیسر ایس پی سنگھ کے ہاتھوں ہوا۔آج کا دوسرا دور شام غزل کے نام رہا ،سدھیر نرائن،راج میسے،محمد رفیق ن کی ٹم نے غالب کی غزلوں کو اپنی مترنم آواز اور موسوقی کے امتزاج سے دلکش انداز میں پیش کر کے سامعین کومحظوظ کیا ۔سیمینار میں شہر کے سبھی کالجوں کے شعبہ اردو کے طلبہ،اساتذہ اور معززیں نے شرکت کی۔کنوینر اشرفی نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کیا۔