نائب صدرجمہوریہ ہندنے ْمادری زبان کےعالمی دنٗ کے موقع پر ویبنار کا افتتاح کیا

https://www.urdu.indianarrative.com/M_Venkaiah_Naidu.jpg

Vice President inaugurates the Webinar on occasion of ‘International Mother Language Day’

 

 

نئی دہلی۔ 21 فروری      نائب صدرجمہوریہ ہند ، جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج ’بین الاقوامی مادری زبان کے دن‘ کے موقع پر ویبنار کا افتتاح کیا۔ وزارت تعلیم ، وزارت ثقافت اور آئی جی این سی اے کے زیر اہتمام ، "تعلیم اور سوسائٹی میں شمولیت کے لئے کثیر لسانیات کو فروغ دینے" کے موضوع پر مشترکہ طور پر ویبنار منعقد کیا جارہا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ ہند نے بین الاقوامی خطاطی کی ورچوئل نمائش کا بھی  افتتاح کیا۔ مرکزی وزیر تعلیم ، جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’؛ وزیر مملکت (آزادانہ  چارج) برائے ثقافت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل؛ وزیر مملکت برائے تعلیم جناب سنجے دھوترے اور آئی جی این سی اے  کے ممبر سکریٹری  ڈاکٹر سچیدانند جوشی بھی ورچوئل طریقے سے  موجود تھے۔ تمام مقررین نے مادری زبان کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ایک خزانہ ثابت ہوگا۔

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج مادری زبان کو کم از کم پانچویں جماعت تک بنیادی ذریعہ تعلیم بنانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بچے کو ایسی زبان میں تعلیم دینا جو گھر میں نہیں بولی جاتی سیکھنے میں خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں ایک بڑی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ متعدد مطالعات کا ذکر کرتے ہوئے ، جناب نائیڈو نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مادری زبان کے ذریعہ تعلیم دینا بچے کی خود اعتمادی کو فروغ دے سکتی ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کو ایک دور اندیش اور ترقی پسند دستاویز قرار دیتے ہوئے ، اس پالیسی کو پوری طرح نافذ کرنے پر زور دیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، نائب صدرجمہوریہ ہند  نے مادری زبان کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے پانچ کلیدی شعبوں پر روشنی ڈالی ۔ ابتدائی تعلیم میں مادری زبان کے استعمال پر زور دینے کے علاوہ ، انتظامیہ ، عدالتی کارروائیوں میں مقامی زبان کا استعمال اور ان میں فیصلے صادر کرنا دیگر شعبے ہیں۔ وہ اعلی اور فنی تعلیم میں دیسی زبانوں کے استعمال میں بتدریج اضافہ بھی چاہتے ہیں۔آخر میں انہوں نے سبھی سے اپنے گھروں میں فخر کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اپنی مادری زبان کے استعمال کی تاکید کی۔

جناب  وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سینکڑوں زبانوں کے  ایک ساتھ رہنے کے ساتھ ، لسانی تنوع ہماری قدیم تہذیب کے  ایک سنگ میل کی رکھتی ہے۔ یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ہماری مادری زبانیں لوگوں میں کس طرح جذباتی ردعمل پیدا کرسکتی ہیں ، جناب  نائیڈو نے انہیں 'ہماری معاشرتی-ثقافتی شناخت کا ایک اہم ربط' ، 'ہمارے اجتماعی علم و حکمت کا ذخیرہ' قرار دیا اور اس طرح انھیں تحفظ اور فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر جناب نائیڈو نے ایک کثیر لسانی معاشرےکے لیے متعدد حکومتی اقدامات جیسے قومی ترجمہ مشن ، بھارت وانی پروجیکٹ اور بھارتیہ بھاشا وشوودیالیہ (بی بی وی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ انٹرپریٹیشن (آئی آئی ٹی ٹی) کے مجوزہ قیام کی ستائش کی۔

آخر میں ، نائب صدر جمہوریہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صرف مستقل استعمال سے ہی زبانوں کی نشو و نما ہوتی ہے اور ہردن مادری زبان کا دن ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مادری زبانوں کواز سر نو  فروغ دینے  نیز اپنے گھروں ، برادری ، اجلاسوں اور انتظامیہ میں 'مادری زبان آزادانہ طور پر اور اعتماد  کے ساتھ  بولنے میں فخر محسوس کرنےٗ کے ہمہ جہت عزم اور کوششوں کی اپیل کی ۔

اس موقع پرجناب پوکھریال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبان کی اہمیت نہ صرف قومی اتحاد میں بلکہ ملک کی ثقافت کو مضبوط بنانے میں بھی مضمر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ 6 سال کی عمر تک ایک بچے کی 90 فیصد ذہنی نشو و نما ہو جاتی ہے اور ہمارے بچوں کی جامع نشونما کے لیے یہ ضروری ہے کہ علم مادری زبان میں حاصل کیا جائے۔

جناب پوکھریال نے قومی تعلیمی پالیسی – 2021  پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس  مادری زبان کی ترقی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے ہماری کثیر لسانی پالیسی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے تاکہ ہمارے بچے ہمارے ملک کی زبانوں کی وسیع سرمایے سے آشنا ہوسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی تعلیمی پالیسی ہے جو طلبا کو اپنی پسند کے موضوع اور زبان کے ساتھ بااختیار بناتی ہے۔ یہ  پالیسی تجویز کرتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ، ذریعہ تعلیم کم از کم پانچویں جماعت  تک ، (ترجیحی طور پر آٹھویں جماعت اور اس سے آگے) مادری زبان / مقامی / علاقائی زبان ہو۔ جناب پوکھریال نے کہا کہ اس تعلیمی پالیسی میں بہت سے نئے اقدامات کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں واقعتاً  ایک کثیر لسانی معاشرے کی تعمیر میں معاون ثابت ہوں گے۔

جناب پرہلاد پٹیل نے کہا کہ ہر مادری زبان کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے ، اس کا اپنا کردار ہوتا ہے ، اپنا اظہار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں دوسری زبانیں سیکھتے  ہیں ، تاہم  مادری زبان فطری طور پر ہم میں فروغ پاتی ہے۔ ہر ایک اپنی مادری زبان بولتے ہوئے ان سے وابستگی اور وابستگی کا احساس محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ثقافت ہماری شخصیت کی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے ، اسی طرح کسی کی مادری زبان بھی کسی کی شخصیت کو تقویت بخشتی ہے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب دھوترے نے کہا کہ 1999 میں یکم فروری کو  مادری زبان کے عالمی دن ، (ماتربھاشا دیوس) یونیسکو کے اعلان کے نتیجے میں ، یہ دن 2015 سے ہر سال ملک بھر کے  تمام اعلی تعلیمی اداروں/ اسکولوں  کو شامل کرکے بڑے پیمانے پر منایا جارہا ہے۔ جس میں مختلف سرگرمیوں جیسےمباحثہ ، گانے ، مضمون  نگاری اور مصوری  کے مقابلوں، موسیقی اور ڈراموں کی پیش کش ، نمائشوں وغیرہ کے انعقاد کیے جاتے ہیں ۔ جناب دھوترنے کہا کہ ان تقریبات کا مقصد لوگوں کے ذریعہ عالمی سطح پر بولی جانے والی تمام زبانوں کو  تحفظ فراہم کرنا فروغ دینا ہےنیز لسانی اور ثقافتی تنوع اور زبانوں کی کثیر لسانیت کے تئیں بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہندوستانی تعلیمی نظام میں تمام ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے اور مادری زبان کو مضبوط بنانے کے لئے ایک فعال نقطہ نظر اپنایا ہے۔


نئی دہلی۔ 21 فروری      نائب صدرجمہوریہ ہند ، جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج ’بین الاقوامی مادری زبان کے دن‘ کے موقع پر ویبنار کا افتتاح کیا۔ وزارت تعلیم ، وزارت ثقافت اور آئی جی این سی اے کے زیر اہتمام ، "تعلیم اور سوسائٹی میں شمولیت کے لئے کثیر لسانیات کو فروغ دینے" کے موضوع پر مشترکہ طور پر ویبنار منعقد کیا جارہا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ ہند نے بین الاقوامی خطاطی کی ورچوئل نمائش کا بھی  افتتاح کیا۔ مرکزی وزیر تعلیم ، جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’؛ وزیر مملکت (آزادانہ  چارج) برائے ثقافت جناب پرہلاد سنگھ پٹیل؛ وزیر مملکت برائے تعلیم جناب سنجے دھوترے اور آئی جی این سی اے  کے ممبر سکریٹری  ڈاکٹر سچیدانند جوشی بھی ورچوئل طریقے سے  موجود تھے۔ تمام مقررین نے مادری زبان کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ایک خزانہ ثابت ہوگا۔

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج مادری زبان کو کم از کم پانچویں جماعت تک بنیادی ذریعہ تعلیم بنانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بچے کو ایسی زبان میں تعلیم دینا جو گھر میں نہیں بولی جاتی سیکھنے میں خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں ایک بڑی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ متعدد مطالعات کا ذکر کرتے ہوئے ، جناب نائیڈو نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مادری زبان کے ذریعہ تعلیم دینا بچے کی خود اعتمادی کو فروغ دے سکتی ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کو ایک دور اندیش اور ترقی پسند دستاویز قرار دیتے ہوئے ، اس پالیسی کو پوری طرح نافذ کرنے پر زور دیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، نائب صدرجمہوریہ ہند  نے مادری زبان کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے پانچ کلیدی شعبوں پر روشنی ڈالی ۔ ابتدائی تعلیم میں مادری زبان کے استعمال پر زور دینے کے علاوہ ، انتظامیہ ، عدالتی کارروائیوں میں مقامی زبان کا استعمال اور ان میں فیصلے صادر کرنا دیگر شعبے ہیں۔ وہ اعلی اور فنی تعلیم میں دیسی زبانوں کے استعمال میں بتدریج اضافہ بھی چاہتے ہیں۔آخر میں انہوں نے سبھی سے اپنے گھروں میں فخر کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اپنی مادری زبان کے استعمال کی تاکید کی۔

جناب  وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سینکڑوں زبانوں کے  ایک ساتھ رہنے کے ساتھ ، لسانی تنوع ہماری قدیم تہذیب کے  ایک سنگ میل کی رکھتی ہے۔ یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ہماری مادری زبانیں لوگوں میں کس طرح جذباتی ردعمل پیدا کرسکتی ہیں ، جناب  نائیڈو نے انہیں 'ہماری معاشرتی-ثقافتی شناخت کا ایک اہم ربط' ، 'ہمارے اجتماعی علم و حکمت کا ذخیرہ' قرار دیا اور اس طرح انھیں تحفظ اور فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر جناب نائیڈو نے ایک کثیر لسانی معاشرےکے لیے متعدد حکومتی اقدامات جیسے قومی ترجمہ مشن ، بھارت وانی پروجیکٹ اور بھارتیہ بھاشا وشوودیالیہ (بی بی وی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ انٹرپریٹیشن (آئی آئی ٹی ٹی) کے مجوزہ قیام کی ستائش کی۔

آخر میں ، نائب صدر جمہوریہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صرف مستقل استعمال سے ہی زبانوں کی نشو و نما ہوتی ہے اور ہردن مادری زبان کا دن ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مادری زبانوں کواز سر نو  فروغ دینے  نیز اپنے گھروں ، برادری ، اجلاسوں اور انتظامیہ میں 'مادری زبان آزادانہ طور پر اور اعتماد  کے ساتھ  بولنے میں فخر محسوس کرنےٗ کے ہمہ جہت عزم اور کوششوں کی اپیل کی ۔

اس موقع پرجناب پوکھریال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبان کی اہمیت نہ صرف قومی اتحاد میں بلکہ ملک کی ثقافت کو مضبوط بنانے میں بھی مضمر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ 6 سال کی عمر تک ایک بچے کی 90 فیصد ذہنی نشو و نما ہو جاتی ہے اور ہمارے بچوں کی جامع نشونما کے لیے یہ ضروری ہے کہ علم مادری زبان میں حاصل کیا جائے۔

جناب پوکھریال نے قومی تعلیمی پالیسی – 2021  پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس  مادری زبان کی ترقی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے ہماری کثیر لسانی پالیسی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے تاکہ ہمارے بچے ہمارے ملک کی زبانوں کی وسیع سرمایے سے آشنا ہوسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی تعلیمی پالیسی ہے جو طلبا کو اپنی پسند کے موضوع اور زبان کے ساتھ بااختیار بناتی ہے۔ یہ  پالیسی تجویز کرتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ، ذریعہ تعلیم کم از کم پانچویں جماعت  تک ، (ترجیحی طور پر آٹھویں جماعت اور اس سے آگے) مادری زبان / مقامی / علاقائی زبان ہو۔ جناب پوکھریال نے کہا کہ اس تعلیمی پالیسی میں بہت سے نئے اقدامات کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں واقعتاً  ایک کثیر لسانی معاشرے کی تعمیر میں معاون ثابت ہوں گے۔

جناب پرہلاد پٹیل نے کہا کہ ہر مادری زبان کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے ، اس کا اپنا کردار ہوتا ہے ، اپنا اظہار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہمیں دوسری زبانیں سیکھتے  ہیں ، تاہم  مادری زبان فطری طور پر ہم میں فروغ پاتی ہے۔ ہر ایک اپنی مادری زبان بولتے ہوئے ان سے وابستگی اور وابستگی کا احساس محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ثقافت ہماری شخصیت کی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے ، اسی طرح کسی کی مادری زبان بھی کسی کی شخصیت کو تقویت بخشتی ہے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب دھوترے نے کہا کہ 1999 میں یکم فروری کو  مادری زبان کے عالمی دن ، (ماتربھاشا دیوس) یونیسکو کے اعلان کے نتیجے میں ، یہ دن 2015 سے ہر سال ملک بھر کے  تمام اعلی تعلیمی اداروں/ اسکولوں  کو شامل کرکے بڑے پیمانے پر منایا جارہا ہے۔ جس میں مختلف سرگرمیوں جیسےمباحثہ ، گانے ، مضمون  نگاری اور مصوری  کے مقابلوں، موسیقی اور ڈراموں کی پیش کش ، نمائشوں وغیرہ کے انعقاد کیے جاتے ہیں ۔ جناب دھوترنے کہا کہ ان تقریبات کا مقصد لوگوں کے ذریعہ عالمی سطح پر بولی جانے والی تمام زبانوں کو  تحفظ فراہم کرنا فروغ دینا ہےنیز لسانی اور ثقافتی تنوع اور زبانوں کی کثیر لسانیت کے تئیں بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہندوستانی تعلیمی نظام میں تمام ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے اور مادری زبان کو مضبوط بنانے کے لئے ایک فعال نقطہ نظر اپنایا ہے۔