وگیان جیوتی پروگرام نے اپنے دوسرے مرحلہ میں 100 اضلاع کااحاطہ کیا

https://www.urdu.indianarrative.com/Ramesh-Pokhriyal-Nishank.jpg

Vigyan Jyoti programme spreads to 100 districts in 2nd phase

 نئی دہلی،12؍فروری: سائنس میں  11 فروری 2021 کو  خواتین اور بچیوں کے  عالمی دن کے موقع پر  وگیان جیوتی پروگرام کے دوسرے مرحلہ کو نافذ کیا گیا۔اس  کے ذریعہ ان بچیوں کی جو  سائنس میں دلچسپی رکھتی ہیں  اور ایس ٹی ای ایم میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں ،حوصلہ افزائی کے لئے پروگرام کو   پھیلایا جائے گا ۔ اسے ملک گیر سطح پر  مزید 50 اضلاع میں شروع کیا گیا ہے اور اب ایسے اضلاع کی جن میں وگیان جیوتی پروگرام چلایا جارہا ہے تعداد بڑھ کر 100 ہوگئی ہے۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے ڈی ایس ٹی کے سکریٹری  پروفیسر آسوتوش شرما نے  اس امید کااظہار کیا کہ اس پروگرام سے  پچھلے ایک برس میں  جو کچھ سیکھا گیا ہے اس سے اس میں  بہتری لانے میں  جہاں مدد ملے گی وہیں خواتین کو  بااختیار بنانے اور اعلی تعلیمی اداروں میں خواتین کی تعداد میں  اضافہ کرنے کی غرض سے ملک کے  زیادہ سے زیادہ اضلاع میں  عام کرنے میں  مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ  خواتین کی کم نمائندگی کو لے کر کثیر رخی مسائل ہیں اورہمیں ان مسائل کو تمام پہلوؤں سے نہ صرف دیکھنا ہوگا بلکہ حسب امید نتائج حاصل کرنے کے لئے  ان کو آگے بھی بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے آگے کہاکہ  نئی تعلیمی پالیسی اور سائنس ٹکنالوجی و اختراعاتی پالیسی ان رکارٹوں کو دور کرے گی اور بہت کم وقت میں  صنفی تقسیم کو ختم کرکے  سائنس کے شعبہ میں  خواتین کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ  ہر طرح کے رول ماڈل اور خاص طور پر ایسی خواتین کے ساتھ بچیوں کا مذاکرہ کرانا ضروری ہے جنہوں نے اپنےاپنے شعبے میں  اعلی مہارت  یا مقام حاصل کررکھا ہے۔ 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001RJOG.jpg

 

 سائنس میں دلچسپی اور  کیریئر بنانے کی  خواہش مند بچیوں کی  حوصلہ افزائی کے لئے  وگیان جیوتی پروگرام ایک نیا قدم ہے جسے محکمہ  سائنس و ٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی) نے شروع کیا ہے۔  اس کامقصد محنتی بچیوں کو اس شعبہ میں  تربیت دے کر انہیں  ایس ٹی ای ایم کے لئے  تیار کیا جاسکے۔  یہ پروگرام دسمبر 2019 سے  50 جواہر نوودے ودیالیوں(جے این وی) میں کامیابی کے سا تھ چل رہا ہے اور اب سال 2021-22 کے لئے اس سے 50 مزید  جے این وی  تک پھیلا دیا گیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002VWSW.jpg

 

یہ پروگرام ای ٹی ای ایم کے مخصوص شعبوں میں  خواتین کی کم نمائندگی کابھی  احاطہ کرتا ہے۔  پہلے قدم کے طور پر   یہ پروگرام  درجہIXاوردرجہXII کی محنتی لڑکیوں کے لئے اسکولی  سطح پر  شروع کیا گیا ہے تاکہ  ان کی  حوصلہ  افزائی کرکے  انہیں  اس لائق بنادیا جائے کہ وہ  ملک کے  اعلی اداروں میں   ایس ٹی ای ایم نصاب اختیار کرسکیں۔

وگیان جیوتی پروگرام میں  طلباء اور والدین کی  کونسلنگ ، لیب اور معلوماتی مراکز کے دورے، رول ماڈلز کے ساتھ  بات چیت  سا ئنس کیمپوں کا انعقاد، اکیڈمک معاونت والے کلاسیز کا اہتمام اور  وسائلی اشیا کی تقسیم جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ آن لائن اکیڈمک تعاون میں طلباء کے لئے ویڈیو کلاسیز کااہتمام، مطالعاتی  اشیاء کی فراہمی، روزانہ کے عمل کے مسائل اور  شکوک و شبہات دور کرنے کے شیشن وغیرہ شامل ہیں۔

ڈی  ایس ٹی کے مشیر اور وگیان جیوتی سمیت کے آئی آر اے این پروگرام کے سربراہ ڈاٹر سنجے مشرا نے کہا کہ قریب مستقبل میں  اس پروگرام سے مزید اضلاع کو جوڑنے کا منصوبہ ہے اور  اس پروگرام کے اثرات  ان 100 اضلاع میں عنقریب  نظر آئیں گے اوراس سے  بچیوں کو ایس ٹی ای ایم میں داخلہ کے لئے حوصلہ بڑھانےمیں مدد ملے گی۔

نوودے ودیالیہ سمیتی (این وی ایس) کے کمشنر جناب ونایک گرگ نے کہا کہ لڑکیوں کے لئے ایک تعمیری ماحول مہیا کرانا بہت ضروری ہے او ریہ پروگرام  سائنس میں دلچسپی لینے والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی سمت میں اٹھایا گیا ایک بڑا قدم ہے۔

ڈی ایس ٹی متعدد خواتین پر مرتکز پروگراموں کے ذریعہ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبہ میں صنفی مساوات کو  لانے کی  سرگرم کوشش کررہا ہے۔ وگیان جیوتی کے علاوہ  اس کے ذریعہ  کیریئر کو ترک کردینے والی خواتین کی  مدد کے لئے ویمن سائنٹسٹ اسکیم، ایف ٹی ای ایم ایم (ڈبلیو آئی ایس ٹی ای ایم ایم) پروگرام میں خواتین کے لئے ہندامریکہ فیلوشپ جس کے ذریعہ  امریکہ کے تحقیقی لیبوں میں  خاتون سائنسداں کام کرسکتی ہیں، جیسے پروگراموں کے ذریعہ خواتین پر مرکوز دوسرے کئے پروگرام محکمہ کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ  خواتین یونیورسٹیوں (سی یو آر آئی) پروگرام میں تحقیق کے شعبہ میں  اختراعات اور  کارکردگی میں  اضافہ کے بھی پروگرام شامل کئے گئے ہیں تاکہ  آر اینڈ ڈی بنیادی ڈھانچہ میں  بہتری لائی جاسکے اور  خواتین یونیورسٹیوں میں  سائنس اور ٹکنالوجی کےشعبہ میں  بہترین کارکردگی کے ذریعہ  جدید ترین تحقیقاتی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔مزید یہ کہ ڈی ایس ٹی نے اضافی طور پر خواتین یونیورسٹیوں میں آرٹیفیشل انٹلی جنس لیب قائم کئے ہیں  جن کانشانہ اے آئی اختراعات کو فروغ دینا اورمستقبل میں اے آئی پر مبنی نوکریوں کے لئے باصلاحیت مین پاور تیار کرنا  ہے۔نئی دہلی،12؍فروری: سائنس میں  11 فروری 2021 کو  خواتین اور بچیوں کے  عالمی دن کے موقع پر  وگیان جیوتی پروگرام کے دوسرے مرحلہ کو نافذ کیا گیا۔اس  کے ذریعہ ان بچیوں کی جو  سائنس میں دلچسپی رکھتی ہیں  اور ایس ٹی ای ایم میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں ،حوصلہ افزائی کے لئے پروگرام کو   پھیلایا جائے گا ۔ اسے ملک گیر سطح پر  مزید 50 اضلاع میں شروع کیا گیا ہے اور اب ایسے اضلاع کی جن میں وگیان جیوتی پروگرام چلایا جارہا ہے تعداد بڑھ کر 100 ہوگئی ہے۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے ڈی ایس ٹی کے سکریٹری  پروفیسر آسوتوش شرما نے  اس امید کااظہار کیا کہ اس پروگرام سے  پچھلے ایک برس میں  جو کچھ سیکھا گیا ہے اس سے اس میں  بہتری لانے میں  جہاں مدد ملے گی وہیں خواتین کو  بااختیار بنانے اور اعلی تعلیمی اداروں میں خواتین کی تعداد میں  اضافہ کرنے کی غرض سے ملک کے  زیادہ سے زیادہ اضلاع میں  عام کرنے میں  مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ  خواتین کی کم نمائندگی کو لے کر کثیر رخی مسائل ہیں اورہمیں ان مسائل کو تمام پہلوؤں سے نہ صرف دیکھنا ہوگا بلکہ حسب امید نتائج حاصل کرنے کے لئے  ان کو آگے بھی بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے آگے کہاکہ  نئی تعلیمی پالیسی اور سائنس ٹکنالوجی و اختراعاتی پالیسی ان رکارٹوں کو دور کرے گی اور بہت کم وقت میں  صنفی تقسیم کو ختم کرکے  سائنس کے شعبہ میں  خواتین کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ  ہر طرح کے رول ماڈل اور خاص طور پر ایسی خواتین کے ساتھ بچیوں کا مذاکرہ کرانا ضروری ہے جنہوں نے اپنےاپنے شعبے میں  اعلی مہارت  یا مقام حاصل کررکھا ہے۔ 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001RJOG.jpg

 

 سائنس میں دلچسپی اور  کیریئر بنانے کی  خواہش مند بچیوں کی  حوصلہ افزائی کے لئے  وگیان جیوتی پروگرام ایک نیا قدم ہے جسے محکمہ  سائنس و ٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی) نے شروع کیا ہے۔  اس کامقصد محنتی بچیوں کو اس شعبہ میں  تربیت دے کر انہیں  ایس ٹی ای ایم کے لئے  تیار کیا جاسکے۔  یہ پروگرام دسمبر 2019 سے  50 جواہر نوودے ودیالیوں(جے این وی) میں کامیابی کے سا تھ چل رہا ہے اور اب سال 2021-22 کے لئے اس سے 50 مزید  جے این وی  تک پھیلا دیا گیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002VWSW.jpg

 

یہ پروگرام ای ٹی ای ایم کے مخصوص شعبوں میں  خواتین کی کم نمائندگی کابھی  احاطہ کرتا ہے۔  پہلے قدم کے طور پر   یہ پروگرام  درجہIXاوردرجہXII کی محنتی لڑکیوں کے لئے اسکولی  سطح پر  شروع کیا گیا ہے تاکہ  ان کی  حوصلہ  افزائی کرکے  انہیں  اس لائق بنادیا جائے کہ وہ  ملک کے  اعلی اداروں میں   ایس ٹی ای ایم نصاب اختیار کرسکیں۔

وگیان جیوتی پروگرام میں  طلباء اور والدین کی  کونسلنگ ، لیب اور معلوماتی مراکز کے دورے، رول ماڈلز کے ساتھ  بات چیت  سا ئنس کیمپوں کا انعقاد، اکیڈمک معاونت والے کلاسیز کا اہتمام اور  وسائلی اشیا کی تقسیم جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ آن لائن اکیڈمک تعاون میں طلباء کے لئے ویڈیو کلاسیز کااہتمام، مطالعاتی  اشیاء کی فراہمی، روزانہ کے عمل کے مسائل اور  شکوک و شبہات دور کرنے کے شیشن وغیرہ شامل ہیں۔

ڈی  ایس ٹی کے مشیر اور وگیان جیوتی سمیت کے آئی آر اے این پروگرام کے سربراہ ڈاٹر سنجے مشرا نے کہا کہ قریب مستقبل میں  اس پروگرام سے مزید اضلاع کو جوڑنے کا منصوبہ ہے اور  اس پروگرام کے اثرات  ان 100 اضلاع میں عنقریب  نظر آئیں گے اوراس سے  بچیوں کو ایس ٹی ای ایم میں داخلہ کے لئے حوصلہ بڑھانےمیں مدد ملے گی۔

نوودے ودیالیہ سمیتی (این وی ایس) کے کمشنر جناب ونایک گرگ نے کہا کہ لڑکیوں کے لئے ایک تعمیری ماحول مہیا کرانا بہت ضروری ہے او ریہ پروگرام  سائنس میں دلچسپی لینے والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی سمت میں اٹھایا گیا ایک بڑا قدم ہے۔

ڈی ایس ٹی متعدد خواتین پر مرتکز پروگراموں کے ذریعہ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبہ میں صنفی مساوات کو  لانے کی  سرگرم کوشش کررہا ہے۔ وگیان جیوتی کے علاوہ  اس کے ذریعہ  کیریئر کو ترک کردینے والی خواتین کی  مدد کے لئے ویمن سائنٹسٹ اسکیم، ایف ٹی ای ایم ایم (ڈبلیو آئی ایس ٹی ای ایم ایم) پروگرام میں خواتین کے لئے ہندامریکہ فیلوشپ جس کے ذریعہ  امریکہ کے تحقیقی لیبوں میں  خاتون سائنسداں کام کرسکتی ہیں، جیسے پروگراموں کے ذریعہ خواتین پر مرکوز دوسرے کئے پروگرام محکمہ کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ  خواتین یونیورسٹیوں (سی یو آر آئی) پروگرام میں تحقیق کے شعبہ میں  اختراعات اور  کارکردگی میں  اضافہ کے بھی پروگرام شامل کئے گئے ہیں تاکہ  آر اینڈ ڈی بنیادی ڈھانچہ میں  بہتری لائی جاسکے اور  خواتین یونیورسٹیوں میں  سائنس اور ٹکنالوجی کےشعبہ میں  بہترین کارکردگی کے ذریعہ  جدید ترین تحقیقاتی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔مزید یہ کہ ڈی ایس ٹی نے اضافی طور پر خواتین یونیورسٹیوں میں آرٹیفیشل انٹلی جنس لیب قائم کئے ہیں  جن کانشانہ اے آئی اختراعات کو فروغ دینا اورمستقبل میں اے آئی پر مبنی نوکریوں کے لئے باصلاحیت مین پاور تیار کرنا  ہے۔