ہندوستان اور باقی دنیا میں تیزی سے ٹیکہ کاری

https://www.urdu.indianarrative.com/dr_harsh_vardhan_G_20.jpg

The Case for Rapid Vaccination of India -- and the Rest of the World

 سارس ۔سی او وی ۔ 2 وائرس سے پیدا شدہ عالمی وبا کوویڈ 19 کے محاذ پر پیش رفت سے متعلق عوامی سطح پر دستیاب اعداد وشمار  سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ستمبر 2020 میں کسی مرحلے پر اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد مسلسل روبہ زوال ہے۔11ستمبر 2020کو یومیہ نئے معاملات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 97655 تھی۔فروری 2021 کے پہلے ہفتے میں یومیہ نئے معاملات کی یہ تعداد 11924 ریکارڈ کی گئی ،اس میں آدھا حصہ کیرالہ کا ہے۔کوویڈ 19 نیشنل سپر ماڈل کمیٹی کے اندازے کے مطابق مارچ کے اخیر تک سرگرم معاملات کی تعداد 10ہزار سے نیچے آجائے گی ۔یہ کمیٹی سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمہ نے قائم کی ہے۔

ان سے بس یہ مفہوم نکلتا ہے کہ وائرس کے خلاف ہماری لڑائی کا صرف پہلا مرحلہ ختم ہوا ہے ۔لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ معاملات کی تعداد میں دوبارہ اضافہ شروع نہ ہو جیسا کہ اٹلی ،برطانیہ اور امریکہ جیسے کئی ملکوں میں ہورہا ہے۔سیرولوجیکل سروے اور ماڈل پیش قیاسیوں کے مطابق ہندوستان کی آبادی کا ایک ٹھوس حصہ اس وقت وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرچکا ہے۔اس میں غالباً مدافعت کچھ فطری نوعیت کی قوتیں بھی شامل ہیں۔اگر چہ موجودہ شہادت سے ایسا لگتا ہے کہ یہ قوت مدافعت طویل میعادی ہوگی لیکن اینٹی باڈیز کی موجودگی جھیلنے والے قوت مدافعت طویل نہیں بس چند ماہی ہوسکتی ہےجبکہ ٹی سیل کی مداخلت والی مدافعت زیادہ دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔سب سے زیادہ لائق اعتبار طویل مدتی تحفظ بہر حال ٹیکے کے ذریعہ ہی فراہم کیا جاسکتا ہے۔حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکہ فطری انفیکشن سے زیادہ مضبوط تر مدافعتی رد عمل سامنے لاتا ہے لہٰذا یہ وبا کی روک تھام کیلئے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاملہ بہر حال حتمی طور پر ابھی طے نہیں پایا۔بعض طبی محققین کا خیال ہے کہ جسم میں اینٹی باڈیز کی موجودگی جو کسی سابقہ انفیکشن کا نتیجہ ہے وہ ٹیکے کے مقابلے میں کسی وائرس سے بچانے کی صلاحیت کم رکھتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ٹیکہ کاری کے ملک گیر پروگرام کو منظور شدہ ٹیکوں کی استعمال کے ذریعہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہلاک شدہ وائرس ویکسین کے ذریعہ اینٹی باڈی کے رد عمل کی وسعت ممکنہ طور پر تبدیل شدہ وائرسوں کے خلاف  ان ٹیکوں کے مقابلے میں جو اسپائک پروٹین کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کر ےگی۔

ملک گیر سطح پر ٹیکہ کاری کی ضرورت کے تعلق سے ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہندوستانی مقتدرات نے دو ٹیکوں کی منظوری دے دی ہےان میں سے ایک کووی شیلڈ ہے جس کی منظوری غیر مشروط طور پر کی گئی ہےاور دوسرا کو ویکسین ہے جو طبی آزمائش کے مرحلے میں ہے۔دونوں ٹیکوں نے ماہرین کی کمیٹیوں کو محفوظ ہونے کے اعتبار سے مطمئن کیا۔ہمیں کو ویکسین سے متعلق تیسرے مرحلے کے اعداد وشمار کا انتظار ہے۔

کسی بھی ٹیکے کے 50فیصد موثر ہونے کی ضرورت منظوری ڈبلیو ایچ او کی طرف سے ملتی ہے اس کے بعد ہی اسے ہنگامی استعمال کیلئے منظوری دی جاسکتی ہے۔کچھ ٹیکے 40فیصد موثر ہونے کے مرحلے پر کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتے ہیں اور کچھ 80فیصد موثر ٹیکے استعمال کرنے والے کو غیر محفوظ چھور سکتے ہیں۔اس لئے ہم باخبر فیصلے تک رسائی کیلئے ریگولیٹری حکام پر بھروسہ کرتے ہیں،کسی منمانے اصول کی پابندی نہیں کرتے۔مذکورہ بالا باتوں سے مراد یہ ہے کہ اگر نشانہ بند آبادی میں ہر کسی کو ٹیکہ لگادیا جاتا ہے (بنیادی طور پر 18سال سے زیادہ کے ہر شخص کو )،اس کے باوجود لوگوں پر لازم ہے کہ وہ حفاظتی پروٹوکول پر عمل جاری رکھیں۔

اگرچہ اب تک ایس اے آ ر ایس ۔سی او وی ۔2 میں ہزاروں تبدیلیاں سامنے آچکی ہیں۔ برطانیہ کا پہلا نام نہاد ایسا واقعہ ہے جس نے انفیکشن کے بعد کئی تبدیلیاں دکھائیں جن میں شدیدی مہلک تبدیلی بھی شامل ہے ۔ اس سلسلے میں دنیا خوش قسمتی سے اب تک محفوظ ہے لیکن غیر محفوظ لوگوں میں جس قدر طویل عرصہ تک اس وائرس کو پھیلنے دیا جائے گا اس کے خطرناک شکل میں بدلتے رہنے کے مواقع اتنے ہی زیادہ سامنے آسکتے ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کے پیش نظر وسائل کے ساتھ ٹیکہ کاری شروع کرنے پر اور بھی زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔اس سلسلے میں خوشی کی بات یہ ہے کہ پتہ چلا ہے کہ کو ویکسین متغیر برطانوی وائرس کے خلاف موثر ہے۔یہاں ہم ایک قول نقل کرتے ہیں ‘برطانیہ میں پائے گئے نئے قسم کے کورونا یعنی یو کے ویرینٹ سے مدافعت کیلئے جن لوگوں کو ویکسین دیا گیا اور ان کے خون کے جو نمونے حاصل کئے گئے اور اسی طرح  اسی اثر انگیزی کے حامل مدافعتی قوت کے حامل نمونوں سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ نیا وائرس موجودہ دستیاب ٹیکے کی زد سے بچ نکلے گا یا غیر اثر پذیر ثابت ہوگا ’۔

مذکورہ بالا باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو روکنا چاہئے اور اس کیلئے بس یہ کافی نہیں کہ ہندوستان میں ہی ہر شخص کو ٹیکہ لگادیا جائے ۔اس عالمی وبا کے خاتمے کیلئے باقی دنیا میں بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو جلد سے جلد ٹیکے لگائے جائیں ۔ہندوستان اس نازک مرحلے میں ویکسین کے محاذ پر نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے بلکہ پوری دنیا کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی ویکسین ڈپلومیسی بطور سپلائر عالمی برادری کو پر امید بناتا ہے ۔سارس ۔سی او وی ۔ 2 وائرس سے پیدا شدہ عالمی وبا کوویڈ 19 کے محاذ پر پیش رفت سے متعلق عوامی سطح پر دستیاب اعداد وشمار  سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ستمبر 2020 میں کسی مرحلے پر اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد مسلسل روبہ زوال ہے۔11ستمبر 2020کو یومیہ نئے معاملات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 97655 تھی۔فروری 2021 کے پہلے ہفتے میں یومیہ نئے معاملات کی یہ تعداد 11924 ریکارڈ کی گئی ،اس میں آدھا حصہ کیرالہ کا ہے۔کوویڈ 19 نیشنل سپر ماڈل کمیٹی کے اندازے کے مطابق مارچ کے اخیر تک سرگرم معاملات کی تعداد 10ہزار سے نیچے آجائے گی ۔یہ کمیٹی سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمہ نے قائم کی ہے۔

ان سے بس یہ مفہوم نکلتا ہے کہ وائرس کے خلاف ہماری لڑائی کا صرف پہلا مرحلہ ختم ہوا ہے ۔لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ معاملات کی تعداد میں دوبارہ اضافہ شروع نہ ہو جیسا کہ اٹلی ،برطانیہ اور امریکہ جیسے کئی ملکوں میں ہورہا ہے۔سیرولوجیکل سروے اور ماڈل پیش قیاسیوں کے مطابق ہندوستان کی آبادی کا ایک ٹھوس حصہ اس وقت وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرچکا ہے۔اس میں غالباً مدافعت کچھ فطری نوعیت کی قوتیں بھی شامل ہیں۔اگر چہ موجودہ شہادت سے ایسا لگتا ہے کہ یہ قوت مدافعت طویل میعادی ہوگی لیکن اینٹی باڈیز کی موجودگی جھیلنے والے قوت مدافعت طویل نہیں بس چند ماہی ہوسکتی ہےجبکہ ٹی سیل کی مداخلت والی مدافعت زیادہ دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔سب سے زیادہ لائق اعتبار طویل مدتی تحفظ بہر حال ٹیکے کے ذریعہ ہی فراہم کیا جاسکتا ہے۔حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکہ فطری انفیکشن سے زیادہ مضبوط تر مدافعتی رد عمل سامنے لاتا ہے لہٰذا یہ وبا کی روک تھام کیلئے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاملہ بہر حال حتمی طور پر ابھی طے نہیں پایا۔بعض طبی محققین کا خیال ہے کہ جسم میں اینٹی باڈیز کی موجودگی جو کسی سابقہ انفیکشن کا نتیجہ ہے وہ ٹیکے کے مقابلے میں کسی وائرس سے بچانے کی صلاحیت کم رکھتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ٹیکہ کاری کے ملک گیر پروگرام کو منظور شدہ ٹیکوں کی استعمال کے ذریعہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہلاک شدہ وائرس ویکسین کے ذریعہ اینٹی باڈی کے رد عمل کی وسعت ممکنہ طور پر تبدیل شدہ وائرسوں کے خلاف  ان ٹیکوں کے مقابلے میں جو اسپائک پروٹین کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کر ےگی۔

ملک گیر سطح پر ٹیکہ کاری کی ضرورت کے تعلق سے ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہندوستانی مقتدرات نے دو ٹیکوں کی منظوری دے دی ہےان میں سے ایک کووی شیلڈ ہے جس کی منظوری غیر مشروط طور پر کی گئی ہےاور دوسرا کو ویکسین ہے جو طبی آزمائش کے مرحلے میں ہے۔دونوں ٹیکوں نے ماہرین کی کمیٹیوں کو محفوظ ہونے کے اعتبار سے مطمئن کیا۔ہمیں کو ویکسین سے متعلق تیسرے مرحلے کے اعداد وشمار کا انتظار ہے۔

کسی بھی ٹیکے کے 50فیصد موثر ہونے کی ضرورت منظوری ڈبلیو ایچ او کی طرف سے ملتی ہے اس کے بعد ہی اسے ہنگامی استعمال کیلئے منظوری دی جاسکتی ہے۔کچھ ٹیکے 40فیصد موثر ہونے کے مرحلے پر کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتے ہیں اور کچھ 80فیصد موثر ٹیکے استعمال کرنے والے کو غیر محفوظ چھور سکتے ہیں۔اس لئے ہم باخبر فیصلے تک رسائی کیلئے ریگولیٹری حکام پر بھروسہ کرتے ہیں،کسی منمانے اصول کی پابندی نہیں کرتے۔مذکورہ بالا باتوں سے مراد یہ ہے کہ اگر نشانہ بند آبادی میں ہر کسی کو ٹیکہ لگادیا جاتا ہے (بنیادی طور پر 18سال سے زیادہ کے ہر شخص کو )،اس کے باوجود لوگوں پر لازم ہے کہ وہ حفاظتی پروٹوکول پر عمل جاری رکھیں۔

اگرچہ اب تک ایس اے آ ر ایس ۔سی او وی ۔2 میں ہزاروں تبدیلیاں سامنے آچکی ہیں۔ برطانیہ کا پہلا نام نہاد ایسا واقعہ ہے جس نے انفیکشن کے بعد کئی تبدیلیاں دکھائیں جن میں شدیدی مہلک تبدیلی بھی شامل ہے ۔ اس سلسلے میں دنیا خوش قسمتی سے اب تک محفوظ ہے لیکن غیر محفوظ لوگوں میں جس قدر طویل عرصہ تک اس وائرس کو پھیلنے دیا جائے گا اس کے خطرناک شکل میں بدلتے رہنے کے مواقع اتنے ہی زیادہ سامنے آسکتے ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کے پیش نظر وسائل کے ساتھ ٹیکہ کاری شروع کرنے پر اور بھی زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔اس سلسلے میں خوشی کی بات یہ ہے کہ پتہ چلا ہے کہ کو ویکسین متغیر برطانوی وائرس کے خلاف موثر ہے۔یہاں ہم ایک قول نقل کرتے ہیں ‘برطانیہ میں پائے گئے نئے قسم کے کورونا یعنی یو کے ویرینٹ سے مدافعت کیلئے جن لوگوں کو ویکسین دیا گیا اور ان کے خون کے جو نمونے حاصل کئے گئے اور اسی طرح  اسی اثر انگیزی کے حامل مدافعتی قوت کے حامل نمونوں سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ نیا وائرس موجودہ دستیاب ٹیکے کی زد سے بچ نکلے گا یا غیر اثر پذیر ثابت ہوگا ’۔

مذکورہ بالا باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو روکنا چاہئے اور اس کیلئے بس یہ کافی نہیں کہ ہندوستان میں ہی ہر شخص کو ٹیکہ لگادیا جائے ۔اس عالمی وبا کے خاتمے کیلئے باقی دنیا میں بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو جلد سے جلد ٹیکے لگائے جائیں ۔ہندوستان اس نازک مرحلے میں ویکسین کے محاذ پر نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے بلکہ پوری دنیا کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کی ویکسین ڈپلومیسی بطور سپلائر عالمی برادری کو پر امید بناتا ہے ۔