مرکزی پولیس فورسز کو انتخاب ہونے والی ریاستوں کے ڈومنیشن علاقوں میں ایک معیاری عمل کے طور پر بھیجا جا رہا ہے : ای سی آئی

https://www.urdu.indianarrative.com/West_Bengal_Election.jpg

Central Police Forces are sent in Advance for Area Domination in concerned Poll Going States/UTs as a Standard Practice: ECI

 نئی دلّی ، 22 فروری / ای سی آئی  کے نوٹس میں   یہ بات آئی ہے کہ  میڈیا کے  کچھ  حلقوں میں  ( انڈین ایکسپریس ، ہندوستان ٹائمس ) ، اِس بات کی رپورٹ  شائع کی گئی ہے کہ مرکزی پولیس فورسز کو ، خاص طور سے مغربی  بنگال ریاست بھیجا جا رہا ہے ۔ 

          ای سی آئی ، اِس سلسلے میں  وضاحت کرنا چاہتی ہے :

          مرکزی پولیس فورس ( سی پی  ایف ) کو  ایسی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں  بھیجا جانا  معمول کی بات ہے ، جہاں  لوک سبھا / ودھان سبھا  کے انتخابات ہونے والے ہوں تاکہ وہ  پہلے سے   علاقے میں پہنچ جائیں ، خاص طور پر  ایسے  اہم اور   حساس علاقوں میں ، جن کی  پہلے  سے نشاندہی  کی جا چکی ہے اور  مختلف  سیاسی پارٹیوں اور اکائیوں  سمیت   دیگر ذرائع  سے ، ان کے بارے میں  ٹھوس  جانکاری حاصل ہوئی ہو ۔  یہ عمل  1980 ء کی دہائی  کے اواخر   سے جاری ہے ۔

          2019 ء  کے لوک سبھا انتخابات میں بھی  مرکزی  فورس کو تمام ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھیجا گیا تھا  اور      اُن تمام  ریاستوں میں بھی  بھیجا  گیا تھا ، جہاں انتخابات  ہونے تھے  ۔ اسی طرح  اب مرکزی پولیس فورس کو  تمام ریاستوں  ، آسام  ، کیرالہ  ، تمل ناڈو ، مغربی بنگال اور مرکز کے زیر انتظام علاقے  پڈو چیری میں بھی  بھیجا جا رہا ہے ، جہاں انتخابات  ہونے والے ہیں ۔

          میڈیا کے لئے  یہ جاننا دلچسپ ہوگا    کہ سی پی ایف   کی تعینات کے لئے  احکامات  16 فروری ، 2021 ء کو  ، اِن پانچ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقے کے چیف سکریٹریوں ، ڈی جی پیز اور اعلیٰ انتخابی افسران  کو جاری کئے گئے تھے نئی دلّی ، 22 فروری / ای سی آئی  کے نوٹس میں   یہ بات آئی ہے کہ  میڈیا کے  کچھ  حلقوں میں  ( انڈین ایکسپریس ، ہندوستان ٹائمس ) ، اِس بات کی رپورٹ  شائع کی گئی ہے کہ مرکزی پولیس فورسز کو ، خاص طور سے مغربی  بنگال ریاست بھیجا جا رہا ہے ۔ 

          ای سی آئی ، اِس سلسلے میں  وضاحت کرنا چاہتی ہے :

          مرکزی پولیس فورس ( سی پی  ایف ) کو  ایسی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں  بھیجا جانا  معمول کی بات ہے ، جہاں  لوک سبھا / ودھان سبھا  کے انتخابات ہونے والے ہوں تاکہ وہ  پہلے سے   علاقے میں پہنچ جائیں ، خاص طور پر  ایسے  اہم اور   حساس علاقوں میں ، جن کی  پہلے  سے نشاندہی  کی جا چکی ہے اور  مختلف  سیاسی پارٹیوں اور اکائیوں  سمیت   دیگر ذرائع  سے ، ان کے بارے میں  ٹھوس  جانکاری حاصل ہوئی ہو ۔  یہ عمل  1980 ء کی دہائی  کے اواخر   سے جاری ہے ۔

          2019 ء  کے لوک سبھا انتخابات میں بھی  مرکزی  فورس کو تمام ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھیجا گیا تھا  اور      اُن تمام  ریاستوں میں بھی  بھیجا  گیا تھا ، جہاں انتخابات  ہونے تھے  ۔ اسی طرح  اب مرکزی پولیس فورس کو  تمام ریاستوں  ، آسام  ، کیرالہ  ، تمل ناڈو ، مغربی بنگال اور مرکز کے زیر انتظام علاقے  پڈو چیری میں بھی  بھیجا جا رہا ہے ، جہاں انتخابات  ہونے والے ہیں ۔

          میڈیا کے لئے  یہ جاننا دلچسپ ہوگا    کہ سی پی ایف   کی تعینات کے لئے  احکامات  16 فروری ، 2021 ء کو  ، اِن پانچ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقے کے چیف سکریٹریوں ، ڈی جی پیز اور اعلیٰ انتخابی افسران  کو جاری کئے گئے تھے