مغربی بنگال میں وزیراعظم کے ہاتھوں آج قوم کے نام وقف کیے گئے ، افتتاح کیے گئے ریل پروجیکٹوں کی تفصیل

https://www.urdu.indianarrative.com/PM_Modi_and_Mamta_Banerjee.jpg

Details of Railway Projects Inaugurated/Dedicated to the Nation by Hon'ble Prime Minister in West Bengal Today

  22-2021 کے مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کے لیے 6636 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو 2009- 2014 کے اوسط بجٹ الاٹمنٹ (4380 کروڑ روپے فی سال) سے 52 فیصد زیادہ رقم ہے۔

آج، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ڈنلپ اسٹیٹ ویلیج میں منعقدہ ایک پروگرام میں مغربی بنگال کے لوگوں کے لیے کئی ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔

وزیراعظم کے ہاتھوں افتتاح  / وقف کیے گئے  پروجیکٹوں  کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

  • نوا پاڑہ سے دکشنیشور تک 4.1 کلو میٹر توسیع اور نوا پاڑہ اور دکشنیشور سیکشن میں پہلی میٹرو  ریل کو ہری جھنڈی:

نواپاڑہ سے میٹرو ریلوے کے دکشنیشور تک جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا ریل سیکشن کی توسیع کا افتتاح کیا گیا اور پہلی ٹرین کو وزیراعظم نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ نوا پاڑہ سے دکشنیشور تک 4.1 کلو میٹر کی توسیعی حصے کی تعمیر 464 کروڑ روپے کی لاگت سے کی گئی ہے۔  اس کے لیے پوری رقم مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی ہے۔

اس توسیعی سیکشن سے شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں مسافروں کو تیز ، آسان، ٹریفک جام سے مبرا، آلودگی سے پاک  سفر مہیا ہوگا۔  ہاوڑہ  - ہگلی اور شمالی 24 پرگنا سے آنے والے قریب 50000 روزانہ مسافروں کو اس توسیع سے فائدہ حاصل ہوگا۔

اس توسیع سے لاکھوں سیاح اور عقیدت مند میٹرو کے ذریعے کالی گھاٹ اور دکشنیشور کے دو مشہور عالم کالی مندروں میں آسانی سے درشن کر سکیں گے۔ سڑک سے ڈھائی گھنٹے کے مقابلے میٹرو کے ذریعے دکشنیشور سے کوی سبھاش (نیو گڑیا) تک آنے جانے میں محض 62 منٹ کا وقت لگے گا۔

  • جنوب مشرقی  ریلوے کی 132 کلو میٹر طویل کھڑگ پور  - آدتیہ پور  تیسری لائن پروجیکٹ کے کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان تیسری لائن :

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے جنوب مشرقی ریلوے کی 132 کلو میٹر طویل  کھڑگ پور  - آدتیہ پور تیسری لائن کے پروجیکٹ کے کلائی کنڈہ اور جھار گرام (30 کلو میٹر ) کے درمیان تیسری لائن کا بھی افتتاح کیا۔ جسے 1312 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے منظوری دی گئی۔  یہ پروجیکٹ مغربی بنگال میں 55 کلو میٹر اور جھارکھنڈ میں 77 کلو میٹر تک جاتا ہے۔ 22-2021 کے بجٹ میں اس پروجیکٹ کے لیے 225 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان 5 بڑے پل اور 43 چھوٹے پل ہیں۔ کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان 4 اسٹیشنوں کو موجودہ بنیادی ڈھانچے کی تجدید کے ساتھ 4 نئی اسٹیشن  عمارتوں ، 6 نئے فٹ اوور  پلوں اور 11 نئے پلیٹ فارموں کی تعمیر کر کے جدید بنایا گیا ہے۔

  • عظیم گنج سے کھڑگا گھاٹ روڈ  سیکشن کو دوہرا کرنے کا کام  (14.60 کلو میٹر) :

وزیراعظم نے 239.38 کروڑ روپے کے پروجیکٹ لاگت سے عظیم گنج  - گھڑگا گھاٹ روڈ سیکشن کو دوہرا بنانے کے کام کا بھی آغاز کیا ، جو مشرقی ریلوے کے ہاوڑہ  - باندیل عظیم گنج سیکشن کا حصہ ہے۔ یہ راستہ شمال مشرقی ریاستوں میں مسافروں کے آنے جانے اور مال برداری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ یہ کولکتہ سے نیو جلپائی گڑی اور گواہاٹی کے لیے ایک متبادل راستے کی شکل میں خدمات انجام دیتا ہے اور مغربی بنگال پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے ساگر دیگھی  پروجیکٹ ، این ٹی پی سی فرکہ کے اہم بجلی آلات اور مذہبی  و تاریخی اہمیت کی جگہوں کو مربوط کرتا ہے۔

  • ڈان کنی اور  باروئی پاڑہ  کے درمیان چوتھی لائن (11.28 کلو میٹر) اور رسول پور اور مگرا کے درمیان تیسری لائن (42.42 کلومیٹر):

وزیراعظم  نے ہاوڑہ -  وردھمان کورڈ لائن کے ڈان کنی اور باروئی پاڑہ (11.28 کلومیٹر) کے درمیان چوتھی لائن بھی قوم کے نام وقف کی۔ ساتھ ہی ہاوڑہ – وردھمان مین لائن کے رسول پور اور مگرا (42.42 کلو میٹر ) کے درمیان تیسری لائن کا بھی آغاز کیا جو کولکتہ کے باب داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے۔

رسول پور سے مگرا سیکشن کے درمیان 759 کروڑ روپے کی لاگت سے تیسری لائن شروع ہونے سے اس بھیڑ بھاڑ والی آمد و رفت کے سیکشن پر زیادہ مسافر اور مال گاڑیاں چلانے میں مدد ملے گی۔

ہاوڑہ – نئی دلی راجدھانی کی  بھیڑ بھاڑ  والی آمدو رفت کے راستے پر ڈان کنی اور باروئی پاڑہ کے درمیان 195 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے چوتھی لائن شروع ہونے سے زیادہ مسافروں اور مال گاڑیوں کی زیادہ آمد و   رفت میں مدد ملے گی۔

مشرقی اور جنوب مشرقی ریلوے کےان پروجیکٹوں سے بہتر آمدو رفت ، سفر کے وقت میں کمی  ، ریل گاڑیوں کی آمد و رفت سے متعلق حفاظت کے ساتھ ساتھ علاقے کی مجموعی ترقی بھی یقینی ہوگی۔ 22-2021 کے مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کے لیے 6636 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو 2009- 2014 کے اوسط بجٹ الاٹمنٹ (4380 کروڑ روپے فی سال) سے 52 فیصد زیادہ رقم ہے۔

آج، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ڈنلپ اسٹیٹ ویلیج میں منعقدہ ایک پروگرام میں مغربی بنگال کے لوگوں کے لیے کئی ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔

وزیراعظم کے ہاتھوں افتتاح  / وقف کیے گئے  پروجیکٹوں  کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

  • نوا پاڑہ سے دکشنیشور تک 4.1 کلو میٹر توسیع اور نوا پاڑہ اور دکشنیشور سیکشن میں پہلی میٹرو  ریل کو ہری جھنڈی:

نواپاڑہ سے میٹرو ریلوے کے دکشنیشور تک جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا ریل سیکشن کی توسیع کا افتتاح کیا گیا اور پہلی ٹرین کو وزیراعظم نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ نوا پاڑہ سے دکشنیشور تک 4.1 کلو میٹر کی توسیعی حصے کی تعمیر 464 کروڑ روپے کی لاگت سے کی گئی ہے۔  اس کے لیے پوری رقم مرکزی حکومت کی طرف سے دی گئی ہے۔

اس توسیعی سیکشن سے شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں مسافروں کو تیز ، آسان، ٹریفک جام سے مبرا، آلودگی سے پاک  سفر مہیا ہوگا۔  ہاوڑہ  - ہگلی اور شمالی 24 پرگنا سے آنے والے قریب 50000 روزانہ مسافروں کو اس توسیع سے فائدہ حاصل ہوگا۔

اس توسیع سے لاکھوں سیاح اور عقیدت مند میٹرو کے ذریعے کالی گھاٹ اور دکشنیشور کے دو مشہور عالم کالی مندروں میں آسانی سے درشن کر سکیں گے۔ سڑک سے ڈھائی گھنٹے کے مقابلے میٹرو کے ذریعے دکشنیشور سے کوی سبھاش (نیو گڑیا) تک آنے جانے میں محض 62 منٹ کا وقت لگے گا۔

  • جنوب مشرقی  ریلوے کی 132 کلو میٹر طویل کھڑگ پور  - آدتیہ پور  تیسری لائن پروجیکٹ کے کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان تیسری لائن :

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے جنوب مشرقی ریلوے کی 132 کلو میٹر طویل  کھڑگ پور  - آدتیہ پور تیسری لائن کے پروجیکٹ کے کلائی کنڈہ اور جھار گرام (30 کلو میٹر ) کے درمیان تیسری لائن کا بھی افتتاح کیا۔ جسے 1312 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے منظوری دی گئی۔  یہ پروجیکٹ مغربی بنگال میں 55 کلو میٹر اور جھارکھنڈ میں 77 کلو میٹر تک جاتا ہے۔ 22-2021 کے بجٹ میں اس پروجیکٹ کے لیے 225 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان 5 بڑے پل اور 43 چھوٹے پل ہیں۔ کلائی کنڈہ اور جھار گرام کے درمیان 4 اسٹیشنوں کو موجودہ بنیادی ڈھانچے کی تجدید کے ساتھ 4 نئی اسٹیشن  عمارتوں ، 6 نئے فٹ اوور  پلوں اور 11 نئے پلیٹ فارموں کی تعمیر کر کے جدید بنایا گیا ہے۔

  • عظیم گنج سے کھڑگا گھاٹ روڈ  سیکشن کو دوہرا کرنے کا کام  (14.60 کلو میٹر) :

وزیراعظم نے 239.38 کروڑ روپے کے پروجیکٹ لاگت سے عظیم گنج  - گھڑگا گھاٹ روڈ سیکشن کو دوہرا بنانے کے کام کا بھی آغاز کیا ، جو مشرقی ریلوے کے ہاوڑہ  - باندیل عظیم گنج سیکشن کا حصہ ہے۔ یہ راستہ شمال مشرقی ریاستوں میں مسافروں کے آنے جانے اور مال برداری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ یہ کولکتہ سے نیو جلپائی گڑی اور گواہاٹی کے لیے ایک متبادل راستے کی شکل میں خدمات انجام دیتا ہے اور مغربی بنگال پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے ساگر دیگھی  پروجیکٹ ، این ٹی پی سی فرکہ کے اہم بجلی آلات اور مذہبی  و تاریخی اہمیت کی جگہوں کو مربوط کرتا ہے۔

  • ڈان کنی اور  باروئی پاڑہ  کے درمیان چوتھی لائن (11.28 کلو میٹر) اور رسول پور اور مگرا کے درمیان تیسری لائن (42.42 کلومیٹر):

وزیراعظم  نے ہاوڑہ -  وردھمان کورڈ لائن کے ڈان کنی اور باروئی پاڑہ (11.28 کلومیٹر) کے درمیان چوتھی لائن بھی قوم کے نام وقف کی۔ ساتھ ہی ہاوڑہ – وردھمان مین لائن کے رسول پور اور مگرا (42.42 کلو میٹر ) کے درمیان تیسری لائن کا بھی آغاز کیا جو کولکتہ کے باب داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے۔

رسول پور سے مگرا سیکشن کے درمیان 759 کروڑ روپے کی لاگت سے تیسری لائن شروع ہونے سے اس بھیڑ بھاڑ والی آمد و رفت کے سیکشن پر زیادہ مسافر اور مال گاڑیاں چلانے میں مدد ملے گی۔

ہاوڑہ – نئی دلی راجدھانی کی  بھیڑ بھاڑ  والی آمدو رفت کے راستے پر ڈان کنی اور باروئی پاڑہ کے درمیان 195 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے چوتھی لائن شروع ہونے سے زیادہ مسافروں اور مال گاڑیوں کی زیادہ آمد و   رفت میں مدد ملے گی۔

مشرقی اور جنوب مشرقی ریلوے کےان پروجیکٹوں سے بہتر آمدو رفت ، سفر کے وقت میں کمی  ، ریل گاڑیوں کی آمد و رفت سے متعلق حفاظت کے ساتھ ساتھ علاقے کی مجموعی ترقی بھی یقینی ہوگی۔