الیکشن کمیشن کے ذریعہ تشہیر پر پابندی کے خلاف دھرنے پر بیٹھیں گی ممتا بنرجی

https://www.urdu.indianarrative.com/Mamata_Banerjee05.jpg

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور حکمراں جماعت ممتا بنرجی

مسلمانوں کو متحد ہوکر ووٹنگ کرنے اور سینٹرل فورس کے خلاف اکسانے والے بیان بازی کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور حکمراں جماعت ممتا بنرجی کی تشہیر پر 24گھنٹے کی روک لگادی ہے۔ یہ پابندی آج رات 8بجے سے کل رات 8بجے تک جاری رہے گی۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے دو معاملوں میں ممتا بنرجی کے خلاف نوٹس جاری کیا تھا اور ان سے جواب مانگا تھا۔اپنے نوٹس میں الیکشن کمیشن نے الزام عاید کیا تھا کہ ممتا بنرجی نے مذہبی بنیاد پر ووٹ مانگ کر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ مرکزی فورسیز کے خلاف بیانات دینے کے معاملے میں بھی الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کو نوٹس دیا تھا۔

 ممتا بنرجی نے ان دونوں معاملے میں نوٹس کا جواب دیا تھا۔انھوں نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ کمیشن کسی اور کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی کے خلاف تمام جماعتوں کو متحد ہونے کی اپیل کرتی رہیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ مرکزی فورسیز کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس بات سے خفا ہیں کہ امت شاہ کے اشارے پر مرکزی فورسیز کام کررہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ووٹروں کو ڈرایا جارہا ہے۔ اس پورے معاملے میں کمیشن نے کہا کہ ممتا بنرجی کو 6اور7اپریل کو جو نوٹس دئیے گئے تھے، ممتا بنرجی اپنے جواب سے کمیشن کو مطمئن نہیں کرسکی ہیں۔

 یہاں غور طلب ہے کہ 13 اپریل کو ممتا بنرجی شمالی 24پرگنہ میں تین ریلیاں کرنے والی تھیں، لیکن الیکشن کمیشن کے ذریعہ 24 گھنٹوں کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد اب وہ یہ ریلیاں نہیں کر پائیں گی۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذریعہ 24 گھنٹے کے لئے انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عاید کئے جانے کی سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ”الیکشن کمیشن غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے کام کر رہی ہے اور صرف بی جے پی کی بات سن رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف میں کولکاتا میں دھرنے پر بیٹھوں گی۔“

 ممتا بنرجی نے کہا کہ کل (13 اپریل کو) وہ دھرم تلہ کے میوروڈ واقع گاندھی مورتی کے قریب 12 بجے سے دھرنے پر بیٹھیں گی۔ترنمول کانگریس کے ترجمان ڈیریک او برائن نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ فیصلہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ کس کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اپریل کا دن جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے۔

Covid-19 In India