جناب دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ دھاتوں اور کانکنی کا شعبہ آتم نربھر بھارت بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے

https://www.urdu.indianarrative.com/Dharmendra_Pradhan.jpg

Shri Dharmendra Pradhan says that metals and mining sector can play an important role in the making of an Aatmanirbhar Bharat

 


نئی دہلی،24؍فروری: پیٹرولیم اور قدرتی گیس  اور  فولاد کے وزیر  جناب دھرمیندر پردھان نے آج کہا کہ  دھاتوں اور کانکنی کا شعبہ آتم نربھر بھارت بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔  58 ویں قومی  میٹالورجسٹ ڈے اور  دھاتوں سے متعلق  بھارت کے  انسٹی ٹیوٹ  (آئی آئی ایم)  کی  74 ویں سالانہ تکنیکی میٹنگ  کے موقع پر  خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ  یہ ایک  مستحکم اور  فروغ پاتا ہوا شعبہ ہے اور اس میں  لا محدود  امکانات ہیں نیز یہ نہ صرف   شعبے کے لئے  بلکہ  معیشت کے لئے بھی  نمو کا وعدہ کرتا ہے۔

آتم نربھر بھارت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ یہ ایک ایسا بھارت ہو، جو الگ تھلگ ہو۔ آتم نر بھر بھارت ، وسیع تر  جامع  ہندوستان کا  تناظر  رکھتا ہے جو نہ صرف اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ وسودھیو کٹم بکم  کے  اصل جذبے کے ساتھ عالمی برادری کی  توقعات پر بھی پورا اترتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے  ہندوستانی جمہوریت کے مندر سے  دولت پیدا کرنے والوں کی اہمیت کے بارے میں  بات کی ہے۔ ’’اگر صنعت، سرکار  اور  اکیڈمیا، سب مل کر  ہمارے معاشرے اور قوم کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں تو ہم یقینی طور پر آتم نربھر بھارت کے تصور کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔‘‘

 جناب پردھان نے کہا کہ  پیدا وار سے منسلک اسکیم  (پی ایل آئی) سرکار کے ذریعے  خصوصی اسٹیل  کے لئے  شروع کی گئی ہے اور یہ  اندرون ملک پیدوار میں اضافہ کرنے کے لئے اس شعبے میں ایک بڑی اصلاح ہے۔ اس  راہ کو ہموار کرنے والے اقدامات  سے  پورے طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے صنعت کو  مدعو کرتے ہوئے وزیر موصوف نے  ملک میں  ایک نیا  مینوفیکچرنگ  ایکو نظام  وضع کرنے  کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  ہمارا ملک  قدرتی وسائل سے بہت زیادہ مال مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ  سرکار  بالکل  واضح کرتی ہے کہ ملک  کے قدرتی وسائل   ،ملک کے شہریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’ لہذا  ہم نے  قدرتی وسائل  کو مختص کرنے کے لئے  ایک  شفاف  اور  قابل  احتساب طریقہ کار  اپنایا ہے‘‘۔

 جناب پردھان نے کہا کہ  کووڈ – 19 وبا سے ابھرتے ہوئے  ہم  بتدریج  اور زیادہ  فیصلہ کن  اوقات کی جانب  گامزن ہورہے ہیں۔ گزشتہ برس  ،ہمارے عزم اور  ملک  اجتماعی کاوشوں سے کیا کرسکتا ہے، اس کا ایک امتحان تھا۔ انہوں نے  وبا سے  نمٹنے  اور  غریب کی بہبود  کو  یقینی بنانے کے  اقدامات   کے ساتھ  وزیراعظم  نے  آتم نربھر بھارت کی  تعمیر   کے لئے  ایک  واضح نعرہ دیا ہے۔

بجٹ 2021  کو  راہیں ہموار  کرنے والا، ترقیاتی  اور  نمو کے  حق  والا قرار دیتے ہوئے جناب پردھان نے کہا کہ اس میں  مستقبل کے لئے  بنیادی ڈھانچے وضع کرنے پر  غیر متوقع توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اس کے نتیجے میں یقینی طور پر  فولاد کے مطالبے میں  بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔ ریلویز، روڈویز اور  پیٹرولیم و  قدرتی گیس  جیسے  کلیدی شعبوں میں  سرمایہ کاری  میں  نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جو کہ  دھاتوں کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے لئے امکانات رکھتا ہے۔

 وزیر موصوف نے کہا ہے کہ ایڈوانس  اسٹیل اور الائز  کے شعبوں میں  انٹلیکچول پراپرٹی  اور  ٹیکنالوجی کو  فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ  حساس ضروریات کو  اندرون ملک ہی پورا کرلیا جائے نیز  بر آمدات میں  نمایاں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ  انٹلیکچول پراپرٹی  اور ٹیکنالوجیوں میں تحقیق و ترقی کے  اداروں اور تعلیمی اداروں کا   رول  انتہائی اہم ہے۔ ’’ہم میٹولوجیکل انجینئرنگ کے لئے عالمی درجے کی سہولت وضع کرنے  اور  فولاد کے شعبے کے لئے انسانی وسائل کے فروغ کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔ مہارت کے مراکز  کو  منظوری دی گئی ہے تاکہ انہیں آئی آئی ٹیز میں قائم کیا جاسکے۔ ہندستان کا فولادی تحقیق  اور  ٹیکنالوجی مشن  تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد لوہے اور اسٹیل کے شعبے میں  قومی اہمیت کے  مشترکہ  اشتراکی  تحقیق پروجیکٹوں کو فروغ دینا ہے۔

آئی آئی ایم کو  اس کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر مبارک باد دیتے ہوئے  وزیر موصوف نے فرمایا  کہ  یہ قابل فخر  بات ہے  کہ   یہ ادارہ ،  جسے  ہندستانی  آزادی سے قبل  1946  میں قائم کیا گیا تھا، ملک کی  فروغ میں نمایاں کردار  اور خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، اکیڈمیا اور  تحقیق  و ترقی   کے  تین ستونوں کے درمیان  ،  اشتراک، ساجھیداری اور  سینرجی نے ہندستان کی  دھاتوں کے سفر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور  قوم کی  تعمیر سازی میں نمایاں اور  بے شمار  خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ایم پر زور دیا کہ  وہ   فولاد  کی صنعت  میں تکنیکی بصیرت کو فروغ دینے ، اختراع پیدا کرنے اور  ماہرانہ افرادی قوت کو  فروغ دینے کے لئے کلیدی کردار ادا کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا  کہ  آتم نربھر بھارت کے تئیں خدمات میں نمایاں اضافہ کرنے کے لئے اندرون ملک  اور  اختراع کے لئے موجودہ  حکمت عملی کو  فروغ  دینا چاہئے۔