بحریہ نے اتراکھنڈ میں بنی مصنوعی جھیل کی گہرائی کی پیمائش کی

https://www.urdu.indianarrative.com/navy.jpg

بحریہ نے اتراکھنڈ میں بنی مصنوعی جھیل کی گہرائی کی پیمائش کی

فضائیہ کے ہیلی کاپٹر نے مصنوعی جھیل میں اتاری غوطہ خوروں کی ٹیم

بحریہ کے غوطہ خوروں نے گہرائی کی ریکارڈنگ کا چیلینجک کام انجام دیا

نئی دہلی ، 21 فروری ( انڈیا نیرٹیو)

 اتراکھنڈ کے چمولی میں گلیشیر ٹوٹنے سے ہونے والی تباہی کے بعد سمندرکی سطح سے 14000 فٹ بلندی پربنی مصنوعی جھیل خطرہ بنی ہوئی ہے۔اس جھیل کی گہرائی کی پیمائش کرنے کے لیے بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ آپریشن چلایا۔ بحریہ کے غوطہ خوروں کی ٹیم نے جھیل کی گہرائی کی پیمائش کرنے کا مشکل کام کیا ہے۔ اب سائنسدان ڈیم کی مٹی کی دیوار پر دباو کے تعین کے لئے اس اہم ڈیٹا کا استعمال کریں گے۔

تپوون سے تقریباً15 کلومیٹر اونچائی پر بنی مذکورہ مصنوعی گلیشیل جھیل سے لاحق خطرے کا اندازہ کرنے کے لیے ایس ڈی آر ایف کی ٹیم وہاں کیمپ کر رہی ہے۔ ابھی تک اس جھیل کی گہرائی کی پیمائش نہیں کی جاسکی ہے جس سے اس کے خطرے کا اندازہ لگایا جاسکے۔ 17 فروری کو ، ڈی آر ڈی او کے 3 سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایس ڈی آر ایف کے ہمراہ گئی تھی جو اب بھی جھیل کے علاقے میں موجود ہے۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے پانی کا دباؤکم کرنے کے لئے جھیل کے دہانے کو آئس ایکس کے ذریعہ کھولا۔

ساتھ ہی واپسی کے دوران ، ٹیم نے ناہموار اور گلیشیر والے مقامات پر بھی رسی اورہک بھی باندھ کر چھوڑ دیئے جس سے آنے والی دیگر ٹیموں کو پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑا۔ اس علاقے تک پہنچنے والی یہ پہلی نگرانی ٹیم تھی جو پیدل راستوں سے پانی جمع ہونے والی جگہ تک پہنچی ۔ 

سائنسدانوں کے دستے کے ساتھ بھیجے گئے ایس ڈی آر ایف کے اہلکار ماؤٹینئرنگ ٹیم کے ممبر تھے جن کو ماضی میں اونچائی والے مقامات پر بچاؤکا تجربہ ہے۔ ان سب کے باوجود اتراکھنڈ انتظامیہ اس مصنوعی جھیل کی گہرائی کا اندازہ نہیں کر سکی تھی جس سے پانی کی نکاسی کے اقدامات کیے جاسکیں۔

 ان تمام وجوہات کی بناپر ، اس مصنوعی جھیل کی گہرائی اب تک نہیں ماپی جاسکی جس سے آگے خطرات کا اندازہ کیا جاسکے۔ چونکہ اس جھیل میں بحری غوطہ خوروں کی ٹیمکو پہنچنے کے لئے سڑک نہیں تھی، اس لئے وقت کی اہمیت کے ساتھ ، بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ آپریشن شروع کیا۔

فضائیہ کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر(اے ایل ایچ)کے ذریعہ بحریہ کے غوطہ خوروں کوجھیل کی گہرائی کی پیمائش کرنے کے لیےسمندر سطح سے 1400 فٹ کی بلندی تک پہنچایا گیا۔ بحری غوطہ خوروں نے برفیلی پانیوں میں گہرائی کی پیمائش کرنے والے آلے کا استعمال کرتے ہوئے ہیلو سے نیچے اترنے اور گہرائیوں کی ریکارڈنگ کرنے کا مشکل کام انجام دیا۔

 اس دوران ایئرفورس کے پائلٹوں نے مشکل خطے میں درست پوزیشن برقرار رکھی۔ اب ، بحریہ کے ذریعہ جمع کیے گئے اہم اعداد و شمار کا استعمال کرکے سائنس دان ڈیم کی مٹی کی دیوار پر دباؤکا تعین کرسکیں گے۔