ہندستانی مسلمان سب سے بہترین

https://www.urdu.indianarrative.com/Indian_Muslims_are_the_best.jpg

ہندستانی مسلمان سب سے بہترین

ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک

کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کا پارلیمنٹ سے سبکدوشی اپنے آپ میں ایک بے مثال واقعہ بن گیا۔ مجھے گزشتہ ساٹھ ستر سالوں میں کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی ایسی جذباتی الوداعی یاد نہیں ہے۔ اس الوداعی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصیت کی ایک انجان جہت کا انکشاف کیا۔

گجراتی سیاحوں کی شہادت کے واقعے کا ذکرکرتے ہوئے ان کی آنکھ میں آنسو آگئے۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ غلام نبی آزاد نے اپنی زندگی کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے ایسی بات کہی ، جو نہ صرف ہندستانی مسلمانوں بلکہ ہر ہندستانی کےلیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک ہندستانی مسلمان ہوں۔

یہی بات 10-11 سال قبل دبئی میں اچانک میرے منہ سے نکلی تھی۔ میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہندستانی مسلمان دنیا کے بہترین مسلمان ہیں۔ دبئی میں ہمارے سفارت خانے کی ایک بڑی میٹنگ ہوئی اور وہاں میرا لیکچر ہوا ، جس کا موضوع ہند عرب تعلقات تھا۔

 اس تقریب میں سینکڑوں غیرملکی انڈین تھے اور درجنوں شیخ اور مولانا لوگ بھی اس تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ جیسے ہی مذکورہ جملہ میرے منہ سے نکلا ، اس میٹنگ میں موجود ہندستانی مسلمانوں نے زبردست تالیاں بجائیں لیکن اگلی صف میں بیٹھے عربی شیخوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ان کی پریشانی کو دیکھ کر میں نے اس لائن کی وضاحت کی۔

 میں نے کہا کہ ہندستان میں ہزاروں سالوں سے جو ہندستانی روایات ہر ہندستانی کے دلوں میں موجزن ہیں،وہی روایات مسلمانوں کے دلوں بھی موجزن ہیں یہاں تک کہ حضرت محمد نے انہیں توحیدورسالت والی انقلابی اسلامی روایات عطا کیں۔ اسی لیے وہ دنیا کے بہترین مسلمان ہیں۔

غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ میں جو بات کہی۔ اس کا بیان سچ ہے ، میں نے اپنے تجربے سے بھی جانا ہے۔ دنیا کے بہت سے مسلم ممالک میں رہتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ہمارے مسلمان کہیں زیادہ مذہبی ، زیادہ نیک ، زیادہ رحم دل اور زیادہ آزاد خیال ہیں۔ لیکن میں برادرم غلام نبی کے دو نکات سے اتفاق نہیں کرتا ہوں۔

ایک یہ کہ وہ خوش ہیں کہ وہ کبھی پاکستان نہیں گئے اور دوسرا یہ کہ ہمارے مسلمانوں میں پاکستانی مسلمانوں کی برائیاں نہ آئیں۔ وہ پاکستان جانے سے کیوں ڈرتے ہیں؟ میں نے کئی بار جاکر اعلی ٰقائدین اور فوجی جرنیلوں سے بات کی۔ وہ بھی جاتے تو شایدمسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکال لاتے۔

دوسری بات یہ کہ دہشت گردی ، تعصب پرستی اور بھارت سے نفرت کاخمیر پاکستان میں ضرور ہے لیکن بیشتر پاکستانی بالکل ویسے ہی ہیں جیسے ہم ہندستانی ہیں۔ وہ 70-75 سال پہلے ایک ہندستانی تھے۔ یقینا ہندستانی مسلمانوں کی صورت حال بہتر ہے ، لیکن جنوبی ایشیاکے سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے ہمارا فرض کیا ہے؟ ہمیں پرانے آریہ ورت کے تمام ممالک اور لوگوں کو جوڑنا اور ان کی ترقی کرنا ہوگی۔