بھارت روس تعلقات

https://www.urdu.indianarrative.com/India_russia_relations.jpg

بھارت روس تعلقات

ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اور ہندوستانی وزیر خارجہ جے شنکر کے مابین گفتگو کے اقتباسات شائع ہوچکے ہیں اور اگر آپ نے ان کی پریس کانفرنس میں ان دونوں کی باتوں کا گہرائی سے جا ئزہ لیاہوگا تو یقینا آپ کو کچھ خوشی ہوگی لیکن آپ غمزدہ ہوئے بغیربھی نہیں رہ سکیں گے۔ خوشی اس حقیقت کی کہ ہم روس سے ایس -400 میزائل خرید رہے ہیں ، یہ خریداری امریکی پابندیوں کے باوجود جاری رہے گی۔ روس بھارت سے ساڑھے سات لاکھ کورونا ویکسین خریدے گا۔

اگرچہ بھارت نے روسی ہتھیاروں کی خریداری میں تقریبا 33 فیصد کی کمی کردی ہے ، لیکن لاوروف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ روس اب جدید اسلحہ سازی میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ روس نے چنئی-ولادیٹوستوک آبی گزرگاہ کو شمالی - جنوبی شاہراہ یعنی ایران اور وسطی ایشیا کے راستے روس پہنچنے کی تیاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لاوروف نے ہند روس اسٹریٹجک اور تجارتی تعاون بڑھانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہندوستان کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات بند کرنے کے لئے آزاد ہے۔ یہاں اس کا اشارہ شاید ہندوستان اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت کی طرف تھا ، لیکن اس نے بہت سی باتیں بھی کہی ہیں ، جس پر آپ کوتھوڑا سنجیدگی سے سوچناہوگا ۔ وہ دن گزر گئے جب بھارت روس تعلقات کو آہنی دوستی کہا جاتا تھا۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی روسی رہنما ہندوستان آیا ہو اور وہاں سے فوری طور پر پاکستان چلا گیا ہو؟ کل نئی دہلی میں پریس کونسل ختم ہوتے ہی لاوروف اسلام آباد پہنچ گئے۔

بھارت کے بارے میں روس کا رویہ پہلے کی طرح ویسا ہی ہو گیا ہے ،جیساکبھی امریکہ کاتھا۔ وہ اسلام آباد کیوں گئے؟ کیونکہ وہ افغانستان کے بحران کو حل کرنے میں مصروف ہیں۔ سوویت روس ہی اس تکلیف کا باعث بنا تھا اور وہی اس کی دوا تلاش کررہا ہے۔ لاوروف نے واضح طور پر کہا کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر افغان بحران حل نہیں ہوسکتا۔ جے شنکر کو دبی زبان سے کہنا پڑا کہ ہاں ، تمام افغانیوں کو اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔ یہ ہماری نااہلی ہے کہ ہمارا طالبان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ 1999 میں ، جب ہمارے جہاز کو ہائی جیک کر کے قندھار لے جایا گیا تو ، وزیر اعظم اٹل جی کی درخواست پر ، میں نے نیویارک میں قندھار کے طالبان رہنماوں سے براہ راست رابطہ کرکے جہاز کو بچایاتھا۔یادرہے کہ طالبان گل زئی پٹھان ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ مجبوری میں ہیں۔ وہ ہندوستان مخالف نہیں ہیں۔ اگر ان کے مشہور دشمن امریکہ اور روس ان سے براہ راست رابطہ رکھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟

لاوروف نے طالبان کے ساتھ روسی تعلقات پر اصرار کیا ، انہوں نے 'انڈو پیسیفک' کی بجائے 'ایشیاءپیسیفک' کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے امریکہ ، ہندوستان ، جاپان اور آسٹریلیائی چوکڑی کو 'ایشین نیٹو' بھی کہا۔ روس ، چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر اب امریکی تسلط کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ بہتر ہوگا کہ ہندوستان کسی دھڑے کا پچھ لگو نہ بنے۔ جے شنکر نے اس نکتہ کو واضح کیا ہے۔

(مضمون نگار ہندوستانی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں)