وعدہ پورا کرنا(Keep your Promise)

https://www.urdu.indianarrative.com/handshake.jpg

Keep your Promise

وعدہ پورا کرنا(Keep your Promise)

وعدہ اور عہدو پیمان کے دن پر کچھ خاص تحریر


عموماً اس دن پر اردو میں بہت کم لکھا جاتا ہے یا یہ کہیں لیں کہ اردو میں رواج نہیں ہے۔ وعدہ اور عہد وپیمان کا دن نوجوان نسل کے لیے بہت خاص ہے۔ اس دن کے پیچھے نوجوان نسل بھاگے جا رہے ہیں۔ اس سب سے پہلے غور کرنے والی بات یہ ہے کہ وعدہ کیا ہے؟ وعدہ خلافی کتنا بڑا گناہ ہے؟  کیا وعدہ خلافی کو لوگ برا بھی سمجھتے ہیں؟ ان سب کے لیے چند سطریں پیش ہیں۔

وعدہ یعنی ایسا کام جو ہم کسی کے کہنے پر کرنے کو کہیں کہ ہم کردیں گے وعدہ کہلاتا ہے اور اس کو پورا کرنا وعدہ کی پابندی کہلاتاہے۔ہم ایک دوسرے سے جو وعدہ کرتے ہیں ہمیں انہیں پورا کرناہوتا  ہے۔یقیناً ایسے وعدوں کی پابندی بہت ضروری ہے۔ اسلام میں وعدہ وفا کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے ۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولًا ( اسراء 34)

اور تم وعدے کو پورا کرو بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

اور ارشاد فرمایا:

وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ (النحل : 91)

اور تم وعدہ کو پورا کرو جب تم وعدہ کرو۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ

كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ

(سورہ الصف: 2-3)

اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے ہاں یہ ناراضگی کے لحاظ سے بہت بڑی بات ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم خود نہ کرو۔

رسول الله ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی برائی کو بیان فرمایا ہے:

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں پائی جاتی ہوں وہ منافق ہے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اگر امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔

(بخاری و مسلم)

مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں خواہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور خیال کرے کہ وہ مسلمان ہے۔

حضرت عبداللہ ابن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

چار باتیں جس میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں منافقت کی ایک خصلت ہوگی جب تک وہ اس کو ترک نہ کردے۔

1))جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

2))جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔

3))جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔

4))جب جھگڑا کرے توگالی گلوج پر اتر آئے۔

(بخاری مسلم)

نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپ ﷺ نے نفاق قرار دیا ہے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر مذموم بات ہے ، آپ ﷺ نے اپنے عمل کے ذریعہ ایفائے عہد کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ اس کی نظیر ملنی دشوار ہے۔

عبدالله بن ابی الحمساء سے مروی ہے کہ میں نے رسول الله ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ ﷺ سے خرید وفروخت کی، آپ کی کچھ چیز باقی رہ گئی ، میں نے وعدہ کیا کہ میں یہ چیزیں یہاں لے کر آتا ہوں ، میں بھول گیا، یہاں تک کہ آج اور کل کا دن گزر گیا، تیسرے دن میں حاضر ہوا تو آپ اسی جگہ پر تھے ،آپ ﷺ نے صرف اس قدر فرمایا: تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہاں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ ( ابوداؤد، حدیث نمبر4996)

وعدہ کی پابندی اور ایفاءِ عہد کا یہی سبق آپ ﷺ سے آپ کے رفقانے پڑھا اور اپنی عملی زندگی میں اسے برت کر دکھایا، چناں چہ حضرت عبدالله بن عمرؓ کی وفات کا وقت آیا، تو فرمایا کہ قریش کے ایک شخص نے میری بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دیا تھا اور میں نے اس سے کچھ ایسی بات کہی تھی جو وعدہ سے ملتی جلتی ہے، تو میں ایک تہائی نفاق یعنی نفاق کی تین میں سے ایک علامت کے ساتھ الله سے ملنا نہیں چاہتا، اس لیے میں تم لوگوں کو گواہ بناتاہوں کہ میں نے اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا۔ ( احیاء العلوم:132/3)

افسوس کہ اخلاقی انحطاط اور پستی کی وجہ سے آج سماج میں وعدہ خلافی کی نوع بہ نوع صورتیں مروج ہو گئی ہیں اور لوگوں کے ذہن میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی، عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدہ کا تعلق ہے ، حالاں کہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد وپیماں سے گزرتے ہیں، معاملات جتنے بھی ہیں ، نکاح، خرید وفروخت، شرکت اور پارٹنر شپ، دو طرفہ وعدہ ہی سے عبارت ہے ، اسی لیے معاملات کو عقد کہا جاتا ہے، عقد کے معنی دو طرفہ وعدہ او رمعاہدہ کے ہیں ، الله تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مواقع پر ایفائے عقود کی طرف متوجہ فرمایا ہے :﴿واوفوا بالعقود﴾ ․ (المائدہ:1)

نکاح کے ذریعہ مرد عورت کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے اخراجات کی ادائیگی کا عہد کرتا ہے اور عورت جائز باتوں میں شوہر کی فرماں برداری کا وعدہ کرتی ہے ، لہٰذا اگر شوہر بیوی کے ساتھ حق تلفی کرے یا بیوی شوہر کے ساتھ حکم عدولی تو نہ صرف حق تلفی اور عدول حکمی کا گناہ ہو گا، بلکہ وہ وعدہ خلافی کے بھی گناہ گارہوں گے ، بیچنے والا گاہک سے مال کے صحیح ہونے اور قیمت کے مناسب ہونے کا وعدہ کرتا ہے ، اگر وہ گاہک سے عیب چھپا کر سامان بیچے یا قیمت میں معمول سے زیادہ نفع وصول کر لے اور گاہک کوجتائے کہ اس نے معمولی نفع پر سامان فروخت کیا ہے تو یہ عقد تجارت کے ذریعہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ جو عہد کرتے ہیں ، اس کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام میں وعدے کا مفہوم صرف یہی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ تمام وعدے ہیں جو ہم نے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے ساتھ کیے ہیں کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم اللہ اور اس کےرسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کرنے کا عہد کرتے ہیں اس عہد کے بعد ہم اپنی زندگی کے ہرمعاملے میں اللہ تعا لٰی اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم پر تعمیل کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو زندگی کے ہر شعبے میں کئے گئے وعدے کو پورا کرنے والا بنا دے۔ آمین

یہ تحریر  خاص ان نوجوان نسل کے لیے جو مادی زندگی میں ہر دن کو بہت ہی اہتمام سے منانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ میں سے کوئی دینِ اسلام پر یقین رکھتے ہیں تو ہر کام میں ان پہلوؤں کو اپنانے کی کوشش کریں ، اس سے دین و دنیا میں بہت سکون محسوس ہوگا اور اس سے دنیاوی اور عاقبت کی زندگی بھی بہتر ہوگی۔