جہیز کے نام پر قتل و غارت: مسلم سماج کا ایک المیہ

https://www.urdu.indianarrative.com/dowry4.jpg

جہیز کے نام پر قتل و غارت

جہیز کے نام پر قتل و غارت: مسلم سماج کا ایک المیہ

جہیز کی خواہش ہر انسان رکھتا ہے۔ ہندوستان میں شادی سے قبل مال و دولت کی طلب نے سماج کو ایک طرح سے ناکارہ بنا دیا ہے۔ آئے دن اس طرح کی خبر ملتی رہتی ہے کہ آج کسی خاتون کو جہیز کی وجہ سے آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ کسی لڑکی کو پھانسی دے دی گئی، کسی حاملہ عورت کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ مختلف اخبارات و ٹیلی ویژن کی خبروں سے سماج گھبرا جا تا ہے کہ آخرکار یہ جہیز کیا بلا ہے؟

آج سے کچھ برس قبل اخبارات اور ٹیلی ویژن ہی سماج رابطے کا ایک بڑا پلیٹ فارم تھا، لیکن آج سوشل میڈیا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے منٹوں میں خبریں پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے۔ اس سوشل میڈیا کے دور میں سماجی کمیاں زیادہ ابھر کر سامنے آنے لگی ہے۔

ہندوستان میں جہیز سے ہلاکت کی خبریں اور اس خبر سے سماج پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جہیز مسلم سماج سے زیادہ ہندو سماج میں دینے اور لینے کا کلچر ہے اور رہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلم سماج ، جہیز کے نام پر جان لینے کے لیے مشہور ہوتے جا رہے  ہیں؟ اس جانب کبھی کسی نے غور کیا ہے؟ دراصل جہیز کی لعنت سے مسلمان اب خود قریب محسو س کرکےعمل کرتے جا رہے ہیں۔ مسلمان کا عمل اب صرف فرد واحد کا عمل نہیں رہا بلکہ پورے مسلم سماج اس عمل میں شامل ہے، اگر آپ اپنی مرضی سے شامل نہیں ہو رہے ہیں تو آپ کو شامل کر دیا جائے گا۔ کیوں کہ اس کے لیے ہزاروں لوگ کام کر رہے ہیں۔ عموماً سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں گردش کر تی ہیں کہ فلاں مسلم نے جہیز کے لیے ایک عورت، لڑکی، حاملہ کی جان لے لی، اس سے مسلم سماج کی بدنامی کے ساتھ رسوائی بھی ہوتی ہے۔

اسلام میں جہیز کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلام میں شادی کو آسان بنانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ غریب ، مسکین اور کمزور طبقہ  کو کسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن جھوٹی شان و شوکت اور اللہ کی لعنت کے ساتھ مسلم سماج خود کو ہوشیار سمجھتے ہوئے جہیز جیسی لعنت پر بہت اصرار کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔ جہیز کی لعنت سے صرف آپ کا گھر ہی ملعون نہیں ہو رہا ہے بلکہ پوری قوم بدنام ہو رہی ہے۔

جہالت کی وجہ سے جہیز کا اصرار اور اس اصرا پر سختی کرتے ہوئے کسی معصوم کی جان لینا آپنے آپ میں بہت لعنتی  کام ہے، تو آخر مسلم سماج میں موجود پڑھے لکھے لوگ کب اس جانب توجہ فرمائیں گے؟ ذی شعور افراد کی  محنت اور کوششوں سے یقینا ً جاہل اور لالچی لوگوں میں غیریت آئے گی اور کم از کم جہیز جیسی لعنتوں سے عام طبقہ بھی دوری اختیار کرے گا۔ مسلم قوم کو اس جانب سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔