بہار : آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی سپرد خاک

https://www.urdu.indianarrative.com/m_wali_Rahmani.jpg

آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی سپرد خاک

پٹنہ ، 04 اپریل (انڈیا نیرٹیو)

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اورامارت شرعیہ بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے امیر شریعت مولانا سید ولی رحمانی کا انتقال ہفتہ کے روز پٹنہ کے ایک نجی اسپتال میں ہوگیا تھا۔ آج سید ولی رحمانی کو ان کے آبائی مقام مونگیر میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جنازہ کی نماز مولانا عمر ین محفوظ رحمانی نے پڑھائی ۔ مولانا عمرین نے ہی سب سے پہلے سوشل میڈیا پر ولی رحمانی کی طبیعت خراب  ہونے کی اطلاع دی تھی۔ 

ان کے انتقال سے ریاست کے سماجی ، مذہبی ، سیاسی اداروں سے وابستہ افراد اور اسکالروں نے ہندوستھان سماچار سے بات چیت میں کہا کہ ان کے جانے سے معاشرے نے ایک عظیم شخصیت کو کھو دیا ہے۔ مولانا رابع حسنی ندوی (چیئر مین مسلم پرسنل لاء بورڈ ) نے کہا کہ بہت افسوسناک خبر ہے ۔ ان سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بہت طاقت مل رہی تھی۔ وہ مسئلوں کو حل کر رہے تھے اور قوم کی رہنمائی کر رہے تھے۔ اشفاق رحمن (کنوینر جنتا دل راشٹر وادی ) نے کہا کہ مولانا محمد ولی رحمانی کاانتقال بہت افسوس ناک ہے۔ عمر کے اس مقام پر بھی وہ مذہبی اور معاشرتی کاموں سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ 

سلیم پرویز (سابق ڈپٹی چیئرمین بہار قانون ساز کونسل) نے کہا کہ ولی رحمانی بڑے  عالم دین تھے۔ معاشرے کے لیے ان کا کام ناقابل فراموش ہے۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے۔ 

تیجسوی یادو (اپوزیشن لیڈر ) نے کہا کہ امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی صاحب کی وفات کی خبر سن کر مجھے دلی صدمہ ہوا ہے۔ آپ ایک معروف مذہبی عالم دین تھے۔ 

خورشید عالم صدیقی (جنرل سکریٹری آر جے ڈی) نے کہا کہ حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کی وفات کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ مولانا رضوان احمد اصلاحی (ریاستی صدر جماعت اسلامی بہار) نے کہا کہ امیر شریعت  ملک اور اقلیتی طبقات کے مسائل سے بہت حساس تھے۔

لالو پرساد یادو نے کہا کہ حضرت مولانا سید ولی رحمانی کے انتقال کی خبر سے بہت دکھ ہوا ہے۔   ان کا نام بہار اور ملک کے مشہور  عالم  دین میں شمار ہوتا تھا۔ اشوک چودھری (وزیر حکومت بہار) نے کہا کہ بہار ، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا سید ولی رحمانی  کے انتقال کی خبر پر میں حیران ہوں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ان  کی روح کو سکون عطا کرے۔ انوار الہدیٰ (جنرل سکریٹری مسلم مجلس ومشاورت بہار چیپٹر ) نے کہا کہ بہار ایک عظیم بیٹے سے محروم ہوگیا ۔ اعجاز احمد ( آر جے ڈی لیڈر) نے کہا کہ مولانا ولی رحمانی کاانتقال ملک  اور ملت کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔

زماں  خان (وزیر برائے اقلیتی بہبود) نے کہا کہ مولانا رحمانی سے امت کو بہت فائدہ  پہنچ رہا  تھا ۔ وہ دین کی خدمت کرنے کے ساتھ ہی قوم کے سبھی مسئلوں کو حل کرتے تھے۔ عبدالباقی (جنرل سکریٹری جے ڈی یو اقلیتی سیل) نے کہا کہ مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔  ریاض احمد (قومی ایگزیکٹو ممبر ، آر جے ڈی) نے کہا کہ ولی رحمانی صاحب کا ملک اور قوم ملت پر بے شمار احسان ہیں۔ مجبور ، بے سہارا لوگوں کے لیے امید کی کرن تھے۔پروفیسر توصیف الرحمن خان ( قومی صدر اقلیتی سیل ، ہندوستانی عوام مورچہ سیکولر) نے کہا کہ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب ملک کے ایک مشہور عالم دین تھے۔ انہوں نے ہمیشہ بے خوف ہو کر مسلمانوں کی رہنمائی کی ۔ 

ظفر احمد غنی (سکریٹری زیڈ اے اسلامیہ کالج سیوان) نے کہا کہ ولی رحمانی صاحب کی وفات انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ مذہبی پیشوا کے ساتھ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔ تعلیم کے میدان میں ان کے کام کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ میجر اقبال حیدر خان (نائب صدر ، جے ڈی یو اقلیتی سیل) نے بتایا کہ ولی رحمانی کے چلے جانے سے امارت شرعیہ سنا ہوگیا۔

سید ولی رحمانی کا تعارف

5جون 1943 کو بہار کے مونگیر میں پیدا ہوئے سید ولی رحمانی ایک ہندوستانی سنی اسلامی اسکالر ، ماہر تعلیم اور رحمانی 30 کے بانی تھے۔انہوں نے 1974 سے 1996 تک بہار قانون ساز کونسل کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ رحمانی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امار ت شرعیہ  بہار ، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے امیر  شریعت  کے ساتھ ساتھ خانقاہ رحمانیہ  مونگیر کے سجادہ نشین  بھی  تھے۔ رحمانی کے دادا محمد علی مونگیری  ندوۃ العلما کے  بانی شخصیات میں سے ایک تھے۔ رحمانی کے والد سید منت اللہ رحمانی بھی اسلامی اسکالر تھے۔ 1991 میں اپنے والد سید منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد خانقاہ رحمانیہ مونگیر کے’’سجادہ نشیں‘‘ بنے۔ شاہ عمران نے رحمانی کی سوانح حیات ’’حیات ولی ‘‘کو لکھا ہے۔ رحمانی کا روحانی سلسلہ فضل رحمن گنج مرادآبادی تک جاتا ہے۔