یونانی ڈے 2021 اور یونانی علاج پر قومی کانفرنس

https://www.urdu.indianarrative.com/Unani_Day.jpg

Unani Day 2021 and National Conference on Unani Medicine

 

 
 

یونانی علاج کی تحقیقات سے متعلق مرکزی کاؤنسل(سی سی آر یو ایم)، وزارت آیوش، حکومت ہند نے یونانی  علاج سے متعلق ایک ورچوئل قومی کانفرنس کاانعقاد کیا۔

کانفرنس  کا ، جس کا موضوع‘‘یونانی طریقہ علاج، مواقع اور مسائل کووڈ-19 کے دور میں’’ تھا، افتتاح جناب کرن رججو محترم وزیرمملکت(آزادانہ چارج) یوتھ افیئرس اینڈ اسپورٹس، آیوروید، یوگا اینڈ نیچرو پیتھی، یونانی، سدھا،سوواریگا اور ہیومیوپیتھی( آیوش) اور وزیر مملکت برائے اقلیتی امورحکومت ہند نے کیا۔اس موقع پر وزارت آیوش کے سکریٹری جناب ویدیا راجیش کوتیجا ، ایڈیشنل سکریٹری وزارت آیوش جناب پرمود کمار پاٹھک، سی سی آر یو ایم کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسرعاصم علی خان اور وزارت آیوش کے شریک مشیر (یونانی) ڈاکٹر ایم اے قاسمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

IMG_9358.JPG

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب کرن رججو نے بتایا کہ یونانی علاج جو مختلف تہذیبوں کی بہترین معلومات سے مالا مال ہے،  لوگوں کی جسمانی ، ذہنی اور سماجی بہبود کو یقینی بنانے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محترم وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں قائم ہونے والی وزارت آیوش نے طبی تحقیقات اور طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں قابل تعریف کام کیا۔ خاص طور پر کووڈ-19 وباء کے دوران اس کارول قابل تعریف رہا ہے۔

IMG_9379.JPG

وزیر محترم جناب شری پد یسو نائک نے اپنے ریکارڈنگ ویڈیو  پیغام میں کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں آیوش سے متعلقہ افراد کے کردار کی ستائش کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویدیا راجیش کوتیجا نے کہا کہ یونانی طریقہ علاج اور سی سی آر یو ایم نے کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ایک تاہم کردار ادا کیا۔انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کی جانے والی یادداشت مفاہمت پر روشنی ڈالی،  جو آیوش کی اصطلاحات کو معیاری بنانے کے لئے کی گئی تھی،جس کا مقصد آئی سی ڈی-11 کو شامل کرنا تھا۔اس کے علاوہ وزارت آیوش کے ذریعہ کئے گئے ان اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد آئی ٹی کو آیوش طبی سہولیات کی فراہمی کے پروگرام ، جیسے نمستے پورٹل اے- ایچ ایم آئی ایس وغیرہ  کا حصہ بنانا تھا ،اور ان اقدامات کے سلسلے میں سی سی آر یو ایم کے تعاون کی تعریف کی۔

اس سے قبل اپنے استقبالیہ  خطاب میں پروفیسر عاصم علی خان نے  کانفرنس کے موضوع کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور یہ بتایا کہ سی سی آر یو ایم نے کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ایک سرگرم کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں چار پروجیکٹ شروع کئے جن میں دو احتیاطی تدابیر سے متعلق تھے اور دو طبی مطالعے سے متعلق تھے ،  یہ مختلف مراکز پر چلائے گئے تھے۔افتتاحی اجلاس ڈاکٹر ایم اے قاسمی کی تجویز پر کلمات تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

تکنیکی اجلاس کے دوران، معروف طبی ماہرین کے ذریعہ کلیدی خطبات دیئے گئے۔جن موضوعات پر یہ خطبات دیئے گئے ان میں روایتی اور جدید طبی نظام کو مربوط کرنا، روایتی طریقہ علاج اور کووڈ- 19وباء سے جنگ میں اس کا کردار، کووڈ-19 وباء کے دوران یونانی ادویہ کار امراض کے خلاف دفاعی نظام کو بہتر بنانے کا سسٹم،کووڈ-19 وباء کے خلاف جنگ میں ساجھے داروں کو شامل کرنا، کووڈ-19 وباء سے نمٹنے کے سلسلے میں نئی دواؤں کی تیاری کی منصوبہ بندی،جڑی بوٹیاں- آیوش کے شعبے میں موجودہ منظر نامہ،کووڈ-19 کے سبب ماہرین تعلیم پر  ذہنی دباؤ کے مسائل، طبی یونانی میں ممکنہ تدابیر،کووڈ-19 وباء کے دوران یونانی اور دیگر آیوش نظاموں کا کردار،  شامل ہیں۔اس کانفرنس میں‘‘  کووڈ-19 کے دوران یونانی ادویہ: مواقع اور مسائل’’ کے موضوع پر پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیاگیا۔ اس کانفرنس میں کووڈ-19 کے دوران یونانی طریقہ علاج کے سامنے آنے والی چیلنجوں اور امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

کانفرنس کے الوداعی اجلاس میں، وزارت آیوش کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پرمود کمار پاٹھک نے سی سی آر یو ایم کی خدمات کو بالخصوص کووڈ-19 کے دوران کئے جانے والے اقدامات کو سراہا  ۔انہوں نے اس کانفرنس میں منعقد کئے جانے والے مباحثوں اور مذاکروں کی بھی تعریف کی اور ان کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

 جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم جگدیش کمار نے بین شعبہ جاتی تحقیق اور  باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ نیزطریقہ علاج سے متعلق آیوش نظام کو بہتر بنانے کے لئے تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بھی بات کی۔

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے کووڈ-19 وباء کے خلاف جنگ میں آیوش کے کردار کو اجاگر کیا او رکہا کہ اس وباء نے عوام کے درمیان آیوش نظام علاج کو مقبولیت دلائی ہے۔

جامعہ ہمدرد نئی دہلی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم اے جعفری نےیونانی ماہرین طب پر کووڈ-19 جیسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مزید تحقیقات کرنے کے لئے زور دیا۔

اپنے اختتامی الفاظ میں، پروفیسر عاصم علی خان نے کانفرنس کے دوران کئے جانے والے  سائنسی تبادلہ خیال کو  مختصر الفاظ میں بیان کیا اور اہم شخصیات، شرکاء،  سی سی آر یو ایم کے افسران کا اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

سرکردہ شخصیات نے کانفرنس کا سوینیر جاری کیا ۔ اس کے علاوہ یونانی علاج میں مشترکہ تدابیر اور یونانی طریقہ علاج کے بنیادی اصولوں  پر تحقیق- افتتاحی اجلاس میں سی سی آر یو ایم میں انجام دیئے گئے مطالعات کی تلخیص، یونانی نسخہ سازی کا طبی مطالعہ- معجون نسیان،کے علاوہ سی سی آر یو ایم کو دیئے گئے اختیارات کی سند کے حوالہ سے اور درازی عمر کے لئے جڑی بوٹیوں کے استعمال پر کتابچہ کا بھی الواعی اجلاس میں   اجراء کیا گیا،جسے سی سی آر یو ایم نے شائع کیا ہے۔


 

یونانی علاج کی تحقیقات سے متعلق مرکزی کاؤنسل(سی سی آر یو ایم)، وزارت آیوش، حکومت ہند نے یونانی  علاج سے متعلق ایک ورچوئل قومی کانفرنس کاانعقاد کیا۔

کانفرنس  کا ، جس کا موضوع‘‘یونانی طریقہ علاج، مواقع اور مسائل کووڈ-19 کے دور میں’’ تھا، افتتاح جناب کرن رججو محترم وزیرمملکت(آزادانہ چارج) یوتھ افیئرس اینڈ اسپورٹس، آیوروید، یوگا اینڈ نیچرو پیتھی، یونانی، سدھا،سوواریگا اور ہیومیوپیتھی( آیوش) اور وزیر مملکت برائے اقلیتی امورحکومت ہند نے کیا۔اس موقع پر وزارت آیوش کے سکریٹری جناب ویدیا راجیش کوتیجا ، ایڈیشنل سکریٹری وزارت آیوش جناب پرمود کمار پاٹھک، سی سی آر یو ایم کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسرعاصم علی خان اور وزارت آیوش کے شریک مشیر (یونانی) ڈاکٹر ایم اے قاسمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

IMG_9358.JPG

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب کرن رججو نے بتایا کہ یونانی علاج جو مختلف تہذیبوں کی بہترین معلومات سے مالا مال ہے،  لوگوں کی جسمانی ، ذہنی اور سماجی بہبود کو یقینی بنانے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محترم وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں قائم ہونے والی وزارت آیوش نے طبی تحقیقات اور طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں قابل تعریف کام کیا۔ خاص طور پر کووڈ-19 وباء کے دوران اس کارول قابل تعریف رہا ہے۔

IMG_9379.JPG

وزیر محترم جناب شری پد یسو نائک نے اپنے ریکارڈنگ ویڈیو  پیغام میں کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں آیوش سے متعلقہ افراد کے کردار کی ستائش کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویدیا راجیش کوتیجا نے کہا کہ یونانی طریقہ علاج اور سی سی آر یو ایم نے کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ایک تاہم کردار ادا کیا۔انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کی جانے والی یادداشت مفاہمت پر روشنی ڈالی،  جو آیوش کی اصطلاحات کو معیاری بنانے کے لئے کی گئی تھی،جس کا مقصد آئی سی ڈی-11 کو شامل کرنا تھا۔اس کے علاوہ وزارت آیوش کے ذریعہ کئے گئے ان اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد آئی ٹی کو آیوش طبی سہولیات کی فراہمی کے پروگرام ، جیسے نمستے پورٹل اے- ایچ ایم آئی ایس وغیرہ  کا حصہ بنانا تھا ،اور ان اقدامات کے سلسلے میں سی سی آر یو ایم کے تعاون کی تعریف کی۔

اس سے قبل اپنے استقبالیہ  خطاب میں پروفیسر عاصم علی خان نے  کانفرنس کے موضوع کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور یہ بتایا کہ سی سی آر یو ایم نے کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ایک سرگرم کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں چار پروجیکٹ شروع کئے جن میں دو احتیاطی تدابیر سے متعلق تھے اور دو طبی مطالعے سے متعلق تھے ،  یہ مختلف مراکز پر چلائے گئے تھے۔افتتاحی اجلاس ڈاکٹر ایم اے قاسمی کی تجویز پر کلمات تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

تکنیکی اجلاس کے دوران، معروف طبی ماہرین کے ذریعہ کلیدی خطبات دیئے گئے۔جن موضوعات پر یہ خطبات دیئے گئے ان میں روایتی اور جدید طبی نظام کو مربوط کرنا، روایتی طریقہ علاج اور کووڈ- 19وباء سے جنگ میں اس کا کردار، کووڈ-19 وباء کے دوران یونانی ادویہ کار امراض کے خلاف دفاعی نظام کو بہتر بنانے کا سسٹم،کووڈ-19 وباء کے خلاف جنگ میں ساجھے داروں کو شامل کرنا، کووڈ-19 وباء سے نمٹنے کے سلسلے میں نئی دواؤں کی تیاری کی منصوبہ بندی،جڑی بوٹیاں- آیوش کے شعبے میں موجودہ منظر نامہ،کووڈ-19 کے سبب ماہرین تعلیم پر  ذہنی دباؤ کے مسائل، طبی یونانی میں ممکنہ تدابیر،کووڈ-19 وباء کے دوران یونانی اور دیگر آیوش نظاموں کا کردار،  شامل ہیں۔اس کانفرنس میں‘‘  کووڈ-19 کے دوران یونانی ادویہ: مواقع اور مسائل’’ کے موضوع پر پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیاگیا۔ اس کانفرنس میں کووڈ-19 کے دوران یونانی طریقہ علاج کے سامنے آنے والی چیلنجوں اور امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

کانفرنس کے الوداعی اجلاس میں، وزارت آیوش کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پرمود کمار پاٹھک نے سی سی آر یو ایم کی خدمات کو بالخصوص کووڈ-19 کے دوران کئے جانے والے اقدامات کو سراہا  ۔انہوں نے اس کانفرنس میں منعقد کئے جانے والے مباحثوں اور مذاکروں کی بھی تعریف کی اور ان کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

 جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم جگدیش کمار نے بین شعبہ جاتی تحقیق اور  باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ نیزطریقہ علاج سے متعلق آیوش نظام کو بہتر بنانے کے لئے تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بھی بات کی۔

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے کووڈ-19 وباء کے خلاف جنگ میں آیوش کے کردار کو اجاگر کیا او رکہا کہ اس وباء نے عوام کے درمیان آیوش نظام علاج کو مقبولیت دلائی ہے۔

جامعہ ہمدرد نئی دہلی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم اے جعفری نےیونانی ماہرین طب پر کووڈ-19 جیسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مزید تحقیقات کرنے کے لئے زور دیا۔

اپنے اختتامی الفاظ میں، پروفیسر عاصم علی خان نے کانفرنس کے دوران کئے جانے والے  سائنسی تبادلہ خیال کو  مختصر الفاظ میں بیان کیا اور اہم شخصیات، شرکاء،  سی سی آر یو ایم کے افسران کا اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

سرکردہ شخصیات نے کانفرنس کا سوینیر جاری کیا ۔ اس کے علاوہ یونانی علاج میں مشترکہ تدابیر اور یونانی طریقہ علاج کے بنیادی اصولوں  پر تحقیق- افتتاحی اجلاس میں سی سی آر یو ایم میں انجام دیئے گئے مطالعات کی تلخیص، یونانی نسخہ سازی کا طبی مطالعہ- معجون نسیان،کے علاوہ سی سی آر یو ایم کو دیئے گئے اختیارات کی سند کے حوالہ سے اور درازی عمر کے لئے جڑی بوٹیوں کے استعمال پر کتابچہ کا بھی الواعی اجلاس میں   اجراء کیا گیا،جسے سی سی آر یو ایم نے شائع کیا ہے۔