مائع شدہ قدرتی گیس کی سپلائی

https://www.urdu.indianarrative.com/Dharmendra_Pradhan.jpg

Union Minister for Petroleum and Natural Gas Shri Dharmendra Pradhan

   پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ اس وقت حکومت گھریلو استعمال میں آنے والی کوکنگ گیس (پی این جی گھریلو) اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق گیس (سی این جی ) کی تقسیم کے لیے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی ) کو گھریلو گیس کی سپلائی کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے ۔ سی جی ڈی نیٹ ورک کے صنعتی اور کمرشیل صارفین بھی اپنی متعلقہ تکنیکی اور کمرشیل ضرورتوں کی بنیاد پر ایل این جی سمیت بازار کی قیمتوں پر گیس استعمال کرتے ہیں ۔

اس وقت ملک میں  پورے ملک پر محیط کوئی بھی  ایل این جی پائپ لائن نہیں ہے۔ حالانکہ پائپ لائن کے ذریعہ قدرتی گیس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا کفایتی بھی ہے اور محفوظ طریقہ بھی ہے  اور اس کے لیے پروگرام نافذ کرنے والی ایجنسی کو ٹیکنا لوجی کے استعمال سمیت ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پڑتے ہیں ۔ پی این جی آر بی ایکٹ 2006 کے تحت قائم کیے گیے پیٹرولیم اینڈ نیچرل  بورڈ (پی این جی آر بی) نے مختلف ملکی ؍بین الاقوامی معیارات کے مطابق  قدرتی گیس پائپ لائن کے لیے تکنیکی اور حفاظتی ضابطے نوٹیفائی کیے ہیں  اور پائپ لائن سے متعلق باضابطہ ادارے کو ان نوٹیفائڈ  ضابطوں کے مطابق معیارات ؍خصوصیات کی پابندی کرنی پڑتی ہے ۔

ابتدائی انرجی مکس میں قدرتی گیس کے حصہ میں ایل این جی کی گھریلوں  پیداوار اور حصولیابی کو فروغ دیتے ہوئے 2030 تک 15 فیصد اضافہ کا نشانہ ہے ۔ ایل این جی کی بر آمدات اوپن جنرل لائسنسنگ  (او جی ایل ) کے زمرے میں آتی ہیں اور ایل این جی ٹرمنلز سمیت ایل این جی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا بھی 100 فیصد ایف ڈی آئی (خود کار طریقہ ) کے دائرے میں ہے ۔ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن ، گیس گرڈ نیٹ ورک سمیت گیس بنیادی ڈھانچوں کی توسیع کرتے ہوئے قدرتی گیس کا بازار تیار کیا جا رہا ہے اور ایل این جی ریٹیل آؤٹ لیٹ قائم کیے جا رہے ہیں ۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے ایل این جی کو ٹرانسپورٹ فیول قرار دیا ہے ۔ گیس کے بازار کو وسعت دینے کے لیے ایل این جی ٹرمنلز؍پائپ لائن ؍سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک قائم کیے جا رہے ہیں ۔  پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ اس وقت حکومت گھریلو استعمال میں آنے والی کوکنگ گیس (پی این جی گھریلو) اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق گیس (سی این جی ) کی تقسیم کے لیے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی ) کو گھریلو گیس کی سپلائی کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے ۔ سی جی ڈی نیٹ ورک کے صنعتی اور کمرشیل صارفین بھی اپنی متعلقہ تکنیکی اور کمرشیل ضرورتوں کی بنیاد پر ایل این جی سمیت بازار کی قیمتوں پر گیس استعمال کرتے ہیں ۔

اس وقت ملک میں  پورے ملک پر محیط کوئی بھی  ایل این جی پائپ لائن نہیں ہے۔ حالانکہ پائپ لائن کے ذریعہ قدرتی گیس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا کفایتی بھی ہے اور محفوظ طریقہ بھی ہے  اور اس کے لیے پروگرام نافذ کرنے والی ایجنسی کو ٹیکنا لوجی کے استعمال سمیت ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پڑتے ہیں ۔ پی این جی آر بی ایکٹ 2006 کے تحت قائم کیے گیے پیٹرولیم اینڈ نیچرل  بورڈ (پی این جی آر بی) نے مختلف ملکی ؍بین الاقوامی معیارات کے مطابق  قدرتی گیس پائپ لائن کے لیے تکنیکی اور حفاظتی ضابطے نوٹیفائی کیے ہیں  اور پائپ لائن سے متعلق باضابطہ ادارے کو ان نوٹیفائڈ  ضابطوں کے مطابق معیارات ؍خصوصیات کی پابندی کرنی پڑتی ہے ۔

ابتدائی انرجی مکس میں قدرتی گیس کے حصہ میں ایل این جی کی گھریلوں  پیداوار اور حصولیابی کو فروغ دیتے ہوئے 2030 تک 15 فیصد اضافہ کا نشانہ ہے ۔ ایل این جی کی بر آمدات اوپن جنرل لائسنسنگ  (او جی ایل ) کے زمرے میں آتی ہیں اور ایل این جی ٹرمنلز سمیت ایل این جی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا بھی 100 فیصد ایف ڈی آئی (خود کار طریقہ ) کے دائرے میں ہے ۔ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن ، گیس گرڈ نیٹ ورک سمیت گیس بنیادی ڈھانچوں کی توسیع کرتے ہوئے قدرتی گیس کا بازار تیار کیا جا رہا ہے اور ایل این جی ریٹیل آؤٹ لیٹ قائم کیے جا رہے ہیں ۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے ایل این جی کو ٹرانسپورٹ فیول قرار دیا ہے ۔ گیس کے بازار کو وسعت دینے کے لیے ایل این جی ٹرمنلز؍پائپ لائن ؍سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک قائم کیے جا رہے ہیں ۔