پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے مقدمات کا ریکارڈ اندراج

https://www.urdu.indianarrative.com/Pakistan5.jpg

پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے مقدمات کا ریکارڈ اندراج

پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے مقدمات کا ریکارڈ اندراج

 اسلام آباد،22فروری(انڈیا نیرٹیو)

ایسے افسوناک واقعات رونما ہونے کے باوجود بھی ملک میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ اس طرح کے زیادہ تر مقدمات ذاتی عناد و رنجش یا جائیداد کی جھگڑوں کی وجہ سے درج کئے جاتے ہیں۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوہزار بیس میں توہین مذہب و توہین رسالت کے ریکارڈ مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر گزشتہ برس دوسو مقدمات درج ہوئے جب کہ سن انیس و ستاسی سے دوہزار بیس تک مجموعی مقدمات کی تعداد اٹھارہ سو ہے۔

 دو ہزار بیس میں درج ہونے والے یہ مقدمات کسی بھی سال کے حساب سے سب سے زیادہ ہیں۔ توہین مذہب و توہین رسالت کے ان مقدمات میں سے ستر فیصد شیعہ مسلمانوں کے خلاف، پانچ فیصد سنی مسلمانوں کے خلاف، تین فیصد مسیحیوں کے خلاف، ایک فیصد ہندووں کے خلاف جب کہ صفر اعشاریہ پانچ فیصد ایسے افراد کے خلاف درج ہوئے ہیں، جن کی مذہبی شناخت معلوم نہیں ہو سکی۔

پاکستان کے حوالے سے عام تاثر یہ ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر مقدمات ملک کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بنتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے مقدمات کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے ہی خلاف ہے۔ تاہم دو ہزار بیس میں ان مقدمات کا ایک فرقہ وارانہ رنگ بھی نظر آرہا ہے۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کا ایک فرقہ وارانہ رنگ ہے۔ ’’زیادہ تر مقدمات جولائی اور ستمبر کے درمیان میں درج ہوئے ہیں، جو محرم سے پہلے یا اس کے بعد کے ہیں۔ تو اس کا واضح طور پر فرقہ وارانہ رنگ نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس حوالے سے خود اپنے بھی اعدادوشمار لے کر آئے تاکہ صیح صورت حال کا اندازہ ہو۔“ انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں ہونی چاہیے۔ ’’اس طرح کے مقدمات میں جن افراد کے خلاف سب سے زیادہ مقدمات درج ہوئے ہیں، وہ خود مسلمان ہیں۔سات مسلمانوں کو، جن پر یہ الزامات تھے، عدالت سے آتے ہوئے یا جاتے ہوئے یا باہر قتل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک کسی ایسی سزا کو برقرار نہیں رکھا۔ نچلی عدالتیں سزائیں ضرور دیتی ہیں لیکن وہاں خوف و دباو ٔ کا عنصر ہوتا ہے۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کو روکنے کے لیے جو شخص غلط الزام لگائے اس کے خلاف بھی سخت سزا ہونی چاہیے۔ ’’ماضی میں ایسی تجاویز آئیں کہ الزام لگانے والے کا اگر الزام غلط ثابت ہوجائے تو اسے سخت سزا دی جائے لیکن مذہبی تنظیموں کی طرف سے اس کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ لیکن بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس کے غلط استعمال کو ہر صورت روکا جائے۔“

 پیڑ جیکب کا کہنا ہے کہ اس کے غلط استعمال کے خلاف بھرپور بیانیہ آنا چاہیے تاکہ حکومت مناسب اقدامات اٹھا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں کوشاں ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے مشرقی وسطیٰ اور بین المذاہب ہم آہنگی طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے اس حوالے سے ایک طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔

’’ہم نے علما کی ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے، جو اس طرح کے واقعات کی تفتیش کرتی ہے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ تو وہ پاکستان علماءکونسل یا مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ہم سب کو پاکستان کا شہری سمجھتے ہیں اور کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔“